اتنے مضبوط اعصاب کا مالک تھا کہ اپنی دکھ غم کو کسی کے سامنے بھی ظاھر ہونے نہیں دیا دو سال سے بھی زیادہ وہ ایک ہی جگہ پڑا رہا وہ کروٹ بھی بدل نہیں سکتا تھا کروٹ بدلنے کے لئے بھی اسے کسی کے سہارے کی ضرورت پڑتی مگر ان سب کے باوجود وہ اپنی عیادت کے لئے آنے والوں سے خندہ پیشانی سے ملتا انکے ساتھ بات کرتا اپنی معذوری کے متعلق اس نے کبھی کسی سے گلہ کیا اور نہ خدا سے شکایت کی
ابھی اس کی عمر بیس بائیس سال کی تھی جب اسے ایک دن اچانک کمر میں تکلیف کا احساس ہوا اور وہ وہی زمین پر گر گیا اس نے بہت کوشش کی مگر اس کے پاوں جواب دے چکے تھے اگر کوئی اس کو ہاتھ بھی لگا لیتا تو اسے محسوس ہی نہیں ہو پا تھا کہ کوئی اس کے پاوں کو ہاتھ لگا رہا ہے
پتہ نہیں کیسی مرض تھی وہ جس سے کبھی جانبر نہ ہوسکی کوئٹہ کے ایک نیرولوجسٹ سے علاج کروایا دو ایک ہفتوں تک کچھ بھی افاقہ نہیں ہوا پھر کراچی کے آغا خان ہسپتال یا نیشنل ہسپتال میں دو تین دفعہ لے جیا گیا مگر اس کے صحت میں ذرا برابر فرق نہیں
ڈاکٹری علاج کے علاوہ روحانی علاج بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا سید کے ہاس لے گئے پیر مرید کے ہاس لے گئے مگر کچھ بھی نہیں ہوا آخر سب نے تھک ہار کر اسے اپنے حال پہ چوڑ دیا اب تو صرف کسی ایک کو اسکی غم تھی اس کی ماں کو باقی سب ظاھری طور پر اسے دلاسہ دیتے کہ ہم بھی انکے اس غم میں شریک ہیں انکو کوئی بھی تھوڑ نہیں سکا نہ یہ بیماری نہ لوگوں کے رویے نہ زندگی کی تلخی سب کا سامنا وہ ہنسی خوشی کر لیتا مگر اس دوران ان کی ماں کی طبیعت بہت خراب ہوگئی ڈاکٹرز کہتے تھے کہ اسے خون کا کینسر ہوا ہے ہمارے ہاں تو ڈاکٹرز کا بھی اللہ نگہبان مریض کی جان جائے مگر بیماری کی پہچان شناخت کبھی نہ ہوپائے
بہت علاج کے لئے اسے ہسپتالوں کے چکر لگائے گئے مگر کچھ بھی افاقہ نہیں ہوا دن بدن وہ کمزور ہوتا جارہی تھی اس کے بدن پہ گوشت کم ہوتا جارہا تھا آخر ایک دن اسکی ماں بیماری سے لڑتے لڑتے اس جہاں فانی سے رخصت ہوگئی پہلی بار وہ بکھر چکی تھی اپنی ماں کی جدائی اس کے حوصلوں کو تھوڑ رہی تھی وہ بہت رویا ت اتنی کہ آسمان والے کو بھی ترس آگیا اور اسے اپنی
ماں سے ملانے کا وعدہ کر لیا اور کچھ ہی مہینے بعد اسے بھی اپنے ماں کے پاس بلانے کا وعدہ کیا
دن بدن اس کی حالت غیر ہوتی جارہی تھی پتہ نہیں یہ ماں کی ممتا کی پیاس تھی یا سماج کی بے را روی وہ بہت سہن کر چکی تھی اتنا کہ کبھی کبھی لوگوں کے طعنے سن سن کر اس کا دماغ پٹا جاتا اور وہ زور زور سے چیخ کر کہ لیتی اس کو بولو میری سامنے سے ہٹ جائے میری قوت برداشت جواب دے رہی ہے مجھ اب مزید برداشت کرنے کی سکت نہیں خدا کے لئے مجھے میرے حال پہ چھوڑ دو
سب اسے ہی اسکی ماں کی موت کا ذمہ دار ٹہرا رہے تھے کوئی کہتا کہ تہمارے سلوک کی وجہ سے آج ہماری بہن ہمارے پاس نہیں کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ
مگر ان سب کے باوجود وہ سہتا رہا برداشت کرتا رہا
اب کسی کو بھی اس کی فکر لاحق نہیں تھی سب اس سے بیزار ہوچکے تھے وہ بھی ماں کے گزر جانے کے بعد یہ محسوس کر چکی تھی کہ اس کے اپنے اب اسے برداشت کرنے سے قاصر ہیں اس نے کھانا پینا بالکل ترک کردیا اس کے دل کا بوجھ کوئی نہیں سمجھ سکا دو سال سے بھی زیادہ ایک جگہ پڑے رہنا انسان کے لئے کتنی اذیت کی بات ہے یہ وہ ہی سمجھ سکتا ہے جس پر یہ سب بیت چکا ہو
وہ اب جینے کی خواہش ترک کرکے اپنی ماں کے پاس جانا چاہتی تھی تاکہ اس سے شکایت لگا سکے کہ دیکھ لو تیرے جانے کے بعدکوئی اسکا خیال نہیں رکھ رہا وہ بہت نازک دل کی تھی زرا زرا سی بات پہ روٹ جاتی پھر خد ہی مان جاتی
کبھی تو بات کرتے کرتے وہ اتنی ہنستی کے ہنسنے کی وجہ سے اس کی آنکھوں میں آنسوں آجاتے اور یہ اس کی مخلص ہونے کی نشانی تھی کہا جاتا ہے کبھی کسے کے ہنستے ہنستے آنسو نکل آئے وہ بہت مخلص اور دل کا صاف ہوتا ہے مگر اس کے دل کو کوئی نہیں سمجھ سکا سب اس کے ظاھری رویے سے تعلق رکھتے تھے کوئی بھی اس کے دل کی نہیں سنتا ہر کوئی اب اسے جھڑکنے لگتا ہرکوئی بات بے بات اسے ٹوک دیتا
آخر یہ سب سہن کرتے کرتے اس کی ہمت جواب دے چکی تھی اس میں اب مزید گنجائش کی کوئج سکت باقی نہیں رہی وہ اپنی دل کابوجھ ہلکا کرنے اپنے ماں کے پاس چلی گئی آج صبح ابھی تک سورج بھی نہیں نکلا بانگ کی آواز کانوں میں پڑھ رہی ہے
سب لوگ اپنے روایتی رسم و رواج کے مطابق دفن کرکے اپنے اپنے گھروں کے راہ لئے واپس ہوچکے ہیں اور برمش اپنی ماں سے لوگوں کی شکایت کرہی ہے
نہ جانے کیوں میرے ذھن میں یہ سوال بار بار اٹھ رہاہے کہ برمش کی موت کا ذمہ ڈار کون ہے ہمارے ڈاکٹرز ہمارا سماج یا ہمارے رویے
21 دسمبر 2022
اینو ہرا استی نا زی آ نن لکھنگ کن قلم ارفینون اونا بارو اٹ لکھنگ یا گڑا اس نوشت کنگ باز مشکل او کاریم اسے او ہستی نا شان ،مرتبہ ،دبدہ و رعب انداخس زیات اس کہ اوفتا پانگ نن کونا نابود آ تا وس آن پیشن اے ولے ولدا ام اوفتا باروٹ نن تینا مخلوق اے سہی کنگ اوفتا موجودگی ٹی علاقہ نا انت صورتحال اس اوفک امر زند تیر کریرہ راج اٹ اوفتا عزت اخس اس مخلوق تا ویل اے او ارا وڑ مر کریرہ دا کل گڑا تے نوشت کنگ نن تینا زی آ فرض خیال کینہ ارا گڑا اے نن اوفتا نگرانی محسوس کرین اوفک ننا تربیت اے ارا وڑ کریر دین انا زی آ افتا اخس کنٹرول اس دا کل اے نن خوانہ باید ننا بروکا مخلوق اے سما تمر تو خواجہ غاک نن گپ کنگ اون پیر سائیں عبدالباقی جان مروی نا باروٹ سائیں جان امو استی اس کہ راج انا کل مخلوق نا دڑد و ویل اے تینا دڑد و ویل چائسکہ او تینا مخلوق کہ خنی کنگ کن اسہ مدرسہ اس ام چلیفیکہ اراٹی ناظرہ، تعلیم القران،فارسی،صرف و نحو نا قانود او عربی ایل تسرہ او اینو پدے اسکا دا انداڑے دا کل ایل تنگ گن او سائیں باقو جان علاقہ ٹی مخلوق نا جنگ و جیڑ آ تے ام خلاس کریکہ جاگہ اس پڈڈہ اس مروسس چنک...


Comments
Post a Comment