Skip to main content

Posts

وہ ہم سے بچھڑا نہیں ہم نے جانے دیا

اتنے مضبوط اعصاب کا مالک تھا کہ اپنی دکھ غم کو کسی کے سامنے بھی ظاھر ہونے نہیں دیا دو سال سے بھی زیادہ وہ ایک ہی جگہ پڑا رہا وہ کروٹ بھی بدل نہیں سکتا تھا کروٹ بدلنے کے لئے بھی اسے کسی کے سہارے کی ضرورت پڑتی مگر ان سب کے باوجود وہ اپنی عیادت کے لئے آنے والوں سے خندہ پیشانی سے ملتا انکے ساتھ بات کرتا اپنی معذوری کے متعلق اس نے کبھی کسی سے گلہ کیا اور نہ خدا سے شکایت کی ابھی اس کی عمر بیس بائیس سال کی تھی جب اسے ایک دن اچانک کمر میں تکلیف کا احساس ہوا اور وہ وہی زمین پر گر گیا اس نے بہت کوشش کی مگر اس کے پاوں جواب دے چکے تھے اگر کوئی اس کو ہاتھ بھی لگا لیتا تو اسے محسوس ہی نہیں ہو پا تھا کہ کوئی اس کے پاوں کو ہاتھ لگا رہا ہے پتہ نہیں کیسی مرض تھی وہ جس سے کبھی جانبر نہ ہوسکی کوئٹہ کے ایک نیرولوجسٹ سے علاج کروایا دو ایک ہفتوں تک کچھ بھی افاقہ نہیں ہوا پھر کراچی کے آغا خان ہسپتال یا نیشنل ہسپتال میں دو تین دفعہ لے جیا گیا مگر اس کے صحت میں ذرا برابر فرق نہیں ڈاکٹری علاج کے علاوہ روحانی علاج بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا سید کے ہاس لے گئے پیر مرید کے ہاس لے گئے مگر کچھ بھی نہیں ہوا آخر سب ن...
Recent posts

ہمارے رہنما یا ہمارے سوداگر

سن انتالیس کے سیاست اور;آج کی سیاست کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو دونوں یکساں طور پر سامنے آتے ہیں خیر اس وقت تو اتنی ترقی نہیں ہوتی تھی اور دنیا اتنی سوشلائز بھی نہیں تھی انگریز جو چائےجس طرح چائے اپنی من مانی کیا کرتے تھے اور ان کے عوام کے اوپر ظلم و ستم اس طرح لوگوں پہ آشکار نہں ہوا کرتے تھے جس طرح آج کے زمانہ میں ایک پتہ ہل جانے سے بھی پورا سماج با خبر ہوجاتا ہے مگر پھر بھی اس وقت لوگ اپنی حق کے لئے اپنی بقا و انا کے لئے سڑکوں پہ نکلتے تھے احتجاج کرتے تھے سیاسی قیادت لوگوں کے ساتھ مل کر انگریزوں سے اپنی آزادی کی مانگ کیا کرتے تھے پر اب ایسا نہیں ہے سیاسی ٹولہ حکومت کی ستم ظریفی اور ناجائز کاموں پر انکی واہ واہ اور جے جے کار کرتا ہے ۔ آج کے دور میں چھوٹی سی بھی چھوٹی حرکت کیمرہ کے آنکھ میں سما جاتی ہے ساری دنیا کو پتا چل جاتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہورہا مگر پھر بھی ہمارے اوپر جو حکمران مسلط ہیں وہ یہ سب دیکھ کر خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں ہر ٹولہ یہاں کے معاملات کو لے کر اپنی سیاست چمکانے کے تگ و دود میں لگا ہے ہوا ہے ہر کسی کی یہی خواہش ہے کہ اگلا الیکشن آجائے اور ساری...

شال کی یادیں

  شال کی یادیں کتاب پڑھنے کا کافی عرصہ سے تمنا تھی دل بہت چاہتا تھا کہ زرک کی وہ یادیں آخر کس طرح ہونگی جس میں انھوں نے بیتے دنوں کو یاد کیا ہے ایک دو دفعہ کسی دوست کو فون پر بتایا بھی تھا کہ میرے لئے کوئٹہ سے یہ کتاب بھیج دیں مگر میری یہ تمنا پوری نہیں ہوئی آخر کار ایک دن میں وٹس ایپ استعمال کر رہا تھا اور وٹس ایپ کہ میسجز پڑھ رہا تھا میسجز پڑھتے ہوئے ایک کتاب پر میری نظر پڑی جسے گروپ کے ایڈمن نے گروپ میں شئیر کیا تھا میری خوشی کی انتہا نہ رہی کیوں کہ میرے وٹس ایپ کے وال پہ زرک میر کی کتاب موجود تھی جو میں کافی دنوں سے تجسس میں تھا کہ کب مجھے یہ کتاب ملے گا اور میں اس کو پڑھو گا اور آج میری دلی خواہش پوری ہو رہی تھی خیر جب کتاب کو ڈاونلوڈ کیا اور اس کو پڑھنا شروع کیا  شروع شروع میں مجھے لگا کہ کسی نہ اس کتاب کا پیش لفظ بھی نہیں لکھا ہے اور یہ کوئی غیر معمولی کتاب ہوگی جس کے پیش لفظ لکھنے کی بھی کسی نے زحمت نہیں کی مگر میں اس وقت غلط ثابت ہوا جب میں نے زرک میر کی بقلم خد نوشت پیش لفظ پڑھی جس نے مجھے کتاب پڑھنے پڑھنے پر مجبور کردیا یہ کتاب قسط وار لکھی گئی تھی جب پہلا ...

آئینہ بلوچستان پر ایک تبصرہ

 بلوچتسان کے تاریخ کے اوپر لکھی گئی کتاب آئینہ بلوچستان جسے ایک عسکری ادارے کے برگیڈیئر محمد اسماعیل صدیقی نے لکھا ہے صدیقی صاحب نے اس کتاب  میں یہاں بلوچستان کے رہنے والے کو ان پڑھ جائل اور نا دانستہ شمار کیا ہے   وہ جگہ جگہ پہ بلوچ قوم کی ان سچائی سے منہ پھیر لیتا ہے جسے موجودہ دور میں ہم بخوبی سمجھ اور بوجھ سکتے ہیں انکی یہ کاوش مقامی پنجاب کے لوگوں کے لئے  تو کارآمد  ثابت ہوسکتا ہے مگر اہل بلوچستان کو ان سے کوئی فائدہ نہیں مل سکتا  کیونکہ بلوچ باشندہ اپنے  محرومیوں کے ذمہ داران کو خوب اچھی طرح سے پہچان لیتے ہیں اور انکا ادراک کس طرح ممکن ہے اس چیز سے بھی بخوبی آشنا ہے وہ اپنی اس کتاب میں جگہ جگہ خود کو اشرف المخلوقات خیال کرکے بلوچ قوم کو اپنے احسان تلے کچلنے کی کوشش کی ہے اور ہر جگہ یہ جتانے کی کوشش کی ہے کہ ہم بحیثیت بلوچ قوم ایک بھیڑوں کا رہوڑ ہے جسے وہ پال پوس کر بڑا کر رہا ہے وہ ہمارے سرداروں اور نوابوں کو تعلیم دشمن عناصر اور ترقی مخالف خیال کرتا ہے جو کہ سراسر اس کی کمی فہمی پر مشتمل ہے ایک جگہ وہ اپنی کہانی میں بلوچ قوم کو  اس قدر نا...

شہید سائیں عبدالباقی جان مروی

اینو ہرا استی نا زی آ نن لکھنگ کن قلم ارفینون اونا بارو اٹ لکھنگ یا گڑا اس نوشت کنگ باز مشکل او کاریم اسے او ہستی نا شان ،مرتبہ ،دبدہ و رعب انداخس زیات اس کہ اوفتا پانگ نن کونا نابود آ تا وس آن پیشن اے ولے ولدا ام اوفتا باروٹ نن تینا مخلوق اے سہی کنگ اوفتا موجودگی ٹی علاقہ نا انت صورتحال اس اوفک امر زند تیر کریرہ راج اٹ اوفتا عزت اخس اس مخلوق تا ویل اے او ارا وڑ مر کریرہ دا کل گڑا تے نوشت کنگ نن تینا زی آ فرض خیال کینہ ارا گڑا اے نن اوفتا نگرانی محسوس کرین اوفک ننا تربیت اے ارا وڑ کریر دین انا زی آ افتا اخس کنٹرول اس دا کل اے نن خوانہ باید ننا بروکا مخلوق اے سما تمر تو خواجہ غاک نن گپ کنگ اون پیر سائیں عبدالباقی جان مروی نا باروٹ سائیں جان امو استی اس کہ راج انا کل مخلوق نا دڑد و ویل اے تینا دڑد و ویل چائسکہ او تینا مخلوق کہ خنی کنگ کن اسہ مدرسہ اس  ام چلیفیکہ اراٹی ناظرہ، تعلیم القران،فارسی،صرف و نحو نا قانود او عربی ایل تسرہ او  اینو پدے اسکا دا انداڑے دا کل ایل  تنگ گن او سائیں باقو جان علاقہ ٹی  مخلوق نا جنگ و جیڑ آ تے ام خلاس کریکہ جاگہ اس پڈڈہ اس مروسس چنک...

سورج ‏کا ‏شہر ‏گوادر

سورج کا شہر گوادر ایک کتاب جس میں ڈاکٹر شاہ محمد مری گوادر کے احاطہ میں انسانی حقوق کے وفد کے ساتھ وہاں کے حالات کا جائزہ لینا جاہتا ہے اور ساتھ ساتھ آرٹیکل لی شکل میں اپنے روز کے معمول کا حوالہ دیتا ہے ڈاکٹر صاحب کی یہ کتاب دو ہزار چار میں شائع ہوئی تھی مگر اب تک بلوچستان میں بڑے پیمانے پر نئی نسل اس کو پڑھنے سے قاصر ہے ڈاکٹر صاحب اس بات کا اعتراف مذکورہ کتاب کی دوسری ایڈیشن پر اسکے دیباچہ میں کرتے ہیں کہ ہم نے یہ کتاب لکھی اور شائع کیا اس عہد میں ایک نسل جوان ہوئی اور اس کو اس کتاب کا علم بھی نہیں اس کتاب میں گوادر اور دوسری ساحلی پٹی جو لگ بھگ 700 کلو میٹر طویل ہے اسکی پسماندگی اور حکومتی کی عدم توجہی کی بات کی گئی ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پورے گوادر کے ساحلی پٹی پر کوئی بھی ایمبولینس موجود نہیں جو ایمرجنسی کی حالت میں وہاں کے مریضوں کو ہسپتال پہنچا سکے مائیگیریوں کے لئے کوئی ڈھنگ کا کالج بھی نہیں نہیں اس خطے کے لوگوں کو سرمایہ داری نظام نے بہت پسماندہ رکھا ہے اور بری طرح انکا استحصال کر رہا ہے ایک جگہ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ حکومت نے بڑی بڑی  کشتیوں کو یہاں...

بی این پی، بیانات سے حل تک

دسمبر 6, 2018 بلاگ کرد بلوچ "ہمارا مقصد اور سیاست کا محور لاپتہ بلوچ نوجوانوں کی بازیابی اور وسائل کا تحفظ ہے، اس کے لیے کوئی بھی کمپرومائز نہیں کریں گے.” یہ بیان ثنا بلوچ کا ہے جنہوں نے یہ حال ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر شئیر کیا تھا. ثنا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ وہ اور لوگ ہوں گے جو اقتدار کی خاطر بلوچستان کا سودا کرتے ہیں، بلوچوں کی اجتماعی قبروں پر سوداگری کرتے ہیں، ان کے دور میں بلوچستان قبرستان بن جاتا ہے. 2017 سے لے کر 2018 تک بلوچستان میں ہزاروں نوجوان لاپتہ ہوئے اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں، سیکڑوں لاشیں ملیں، آج وہی لوگ بیٹھ کر ہم پر الزامات لگاتے ہیں. ثنا بلوچ کی یہ ساری باتیں حقیقت پر مبنی ہیں اور عوام نے ان رہنماؤں سے نجات پانے کے لیے ہی بی این پی کو ووٹ دیا اور بی این پی کے بہت سے امیدواروں کو اپنے اپنے حلقوں سے کامیاب کروایا. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی این پی کے آتے ہی بلوچستان کے مسائل حل ہوئے؟ جتنے بھی لاپتہ افراد تھے کیا وہ بازیاب ہو سکے؟ بلوچستان کو حقِ خود ارادیت ملا؟ بلوچوں کو اغوا کرنے کا جو سلسلہ سابق حکومت میں تھا، وہ ختم ہوا یا ابھی...

بی این پی بیانات سے حل تک

دسمبر 6, 2018 بلاگ کرد بلوچ "ہمارا مقصد اور سیاست کا محور لاپتہ بلوچ نوجوانوں کی بازیابی اور وسائل کا تحفظ ہے، اس کے لیے کوئی بھی کمپرومائز نہیں کریں گے.” یہ بیان ثنا بلوچ کا ہے جنہوں نے یہ حال ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر شئیر کیا تھا. ثنا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ وہ اور لوگ ہوں گے جو اقتدار کی خاطر بلوچستان کا سودا کرتے ہیں، بلوچوں کی اجتماعی قبروں پر سوداگری کرتے ہیں، ان کے دور میں بلوچستان قبرستان بن جاتا ہے. 2017 سے لے کر 2018 تک بلوچستان میں ہزاروں نوجوان لاپتہ ہوئے اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں، سیکڑوں لاشیں ملیں، آج وہی لوگ بیٹھ کر ہم پر الزامات لگاتے ہیں. ثنا بلوچ کی یہ ساری باتیں حقیقت پر مبنی ہیں اور عوام نے ان رہنماؤں سے نجات پانے کے لیے ہی بی این پی کو ووٹ دیا اور بی این پی کے بہت سے امیدواروں کو اپنے اپنے حلقوں سے کامیاب کروایا. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی این پی کے آتے ہی بلوچستان کے مسائل حل ہوئے؟ جتنے بھی لاپتہ افراد تھے کیا وہ بازیاب ہو سکے؟ بلوچستان کو حقِ خود ارادیت ملا؟ بلوچوں کو اغوا کرنے کا جو سلسلہ سابق حکومت میں تھا، وہ ختم ہوا یا ابھی تک...