Skip to main content

آئینہ بلوچستان پر ایک تبصرہ

 بلوچتسان کے تاریخ کے اوپر لکھی گئی کتاب آئینہ بلوچستان جسے ایک عسکری ادارے کے برگیڈیئر محمد اسماعیل صدیقی نے لکھا ہے صدیقی صاحب نے اس کتاب  میں یہاں بلوچستان کے رہنے والے کو ان پڑھ جائل اور نا دانستہ شمار کیا ہے   وہ جگہ جگہ پہ بلوچ قوم کی ان سچائی سے منہ پھیر لیتا ہے جسے موجودہ دور میں ہم بخوبی سمجھ اور بوجھ سکتے ہیں انکی یہ کاوش مقامی پنجاب کے لوگوں کے لئے  تو کارآمد  ثابت ہوسکتا ہے مگر اہل بلوچستان کو ان سے کوئی فائدہ نہیں مل سکتا  کیونکہ بلوچ باشندہ اپنے  محرومیوں کے ذمہ داران کو خوب اچھی طرح سے پہچان لیتے ہیں اور انکا ادراک کس طرح ممکن ہے اس چیز سے بھی بخوبی آشنا ہے وہ اپنی اس کتاب میں جگہ جگہ خود کو اشرف المخلوقات خیال کرکے بلوچ قوم کو اپنے احسان تلے کچلنے کی کوشش کی ہے اور ہر جگہ یہ جتانے کی کوشش کی ہے کہ ہم بحیثیت بلوچ قوم ایک بھیڑوں کا رہوڑ ہے جسے وہ پال پوس کر بڑا کر رہا ہے وہ ہمارے سرداروں اور نوابوں کو تعلیم دشمن عناصر اور ترقی مخالف خیال کرتا ہے جو کہ سراسر اس کی کمی فہمی پر مشتمل ہے ایک جگہ وہ اپنی کہانی میں بلوچ قوم کو  اس قدر نا دانستہ بیان کیا ہے  کہ بحثیت قوم ہم لوگ ہیلی کیپٹر کے  آواز جاننے اور گاڑیوں کی چہل پہل سے بھی نا بلد ہے ہم اپنی بیماری کا بھی شعور نہیں رکھتے اور یہ بھی نہیں جانتے کہ اسپتال نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے جہاں پہ طبی امراض کی تشخیص کی جاتی ہے وہ میاں خان اور حمل دو بھائیوں کا تذکرہ کرتا ہے کس طرح حمل کا بھائی میاں خان غلط لوگوں کے ہاتھوں میں پڑھ کر ڈاکو اور لوٹ مار کرنے  اور سرادر کے کہنے پہ باغی گروپ کے ایک تنظیم سے منسلک ہوتا ہے اور متعدد کاروائیوں میں ملوث ہوکر فراری بن جاتا ہے جب حکومت اہلکار ان کا تعاقب کرکے انکو گرفتار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ بھاگ کر پہاڑوں میں روپوش ہوکر اپنے آبائی علاقہ اور اپنے بھائی حمل کے پاس رہنے کےلئے جاتا ہے  جو کہ پہاڑوں کے اوپر ایک غار میں اپنے ذندگی کے آخری دن اپنی بیوی حاجرہ کے ساتھ گزار رہا ہوتا ہے اور اپنی آخری ایام اپنے بیٹے کے یاد میں گن گن کر جی رہا ہے جسے سرادر اپنے پاس لیکر گیا تھا اور انکی واپسی انکے موت کے صورت میں ظہور پزیر ہوا  میاں خان جب اپنی بھائی کے پاس پہنچتا ہے تو   حکومت اہلکار انکا پیچھا کرکے اس جگہ تک پہنچتے ہیلی کاپٹر اور دونوں بھائیوں کو اپنی تحویل میں لے کر کوہلو جیل منتقل کرتے ہیں جہاں پہلے سے ہی بہت سے فراری پکڑ لئے گئے تھے   ان دونوں کو بھی اسی کالی کوٹھڑی میں بند کر دیا جاتا ہے  جب مغرب کی اذان ہوجاتی ہے تو  حمل خان بہت حیران ہوجاتا ہے کہ یہ کیسی آواز ہے اس سے پہلے صرف اس نے بچپن میں مسجد میں پڑھتے ہوئے یہ آواز سنی تھی اس کہ بعد کبھی بھی نہیں سنی تھی   پہاڑوں میں  گزر بسر ہونے کے باعث اس آواز کو سننے کا شرف اسے  کبھی بھی حاصل  ہوا تھا آج جب جیل کال کوٹھڑی مین یہ آواز سنتا ہے تو اسے بہت سکون میسر ہوتا ہے اور یہاں تک بات ختم نہین ہوتی وہ آگے لکھتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے ریڈیو کی آواز کسے عجوبہ سے کم نہیں تھا اور یہ زمانہ 75 کا تھا جس وقت ذوالفقار بھٹو اقتدار میں تھے اور پاکستان کے وزیر اعظم  تھے اسی دورانیہ جب بھٹو کوئلو بارکھان کا دورہ کرکے  جیل کے دورے پر بھی آتے  تو حمل ہیلی کاپٹر کے آواز پر چونک پڑتا ہے اور سوچنے لگتا ہے  کہ یہ کیا ہوسکتا ہے کسی پرندہ کی آواز یا کوئی بھیانک خونخوار جانور جس   کی آواز سن کے وہ سہم گیا تھا اس کے آگے وہ اپنی دریا دلی اور فراخ دلی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں کے بھٹو کے جیل کے دورے پر اس نے تمام قیدیوں کی عام معافی کا اعلان کر دیا ہے اور یہ بھی کہا کہ آپ لوگ میرے بھائی ہو بھلا آپ کو ہم کیسے نقصان پہنچا سکتے ہیں اس کے علاوہ وہ بلوچ دانشوروں کی جانب سے سوئی گیس کے اوپر کئے گئے اظہار خیالات کے  اوپر اپنی طفلانہ خیال پیش کرتے ہوئے کیتے ہیں کہ بلوچ دانشوروں کا یا وہاں کے مقیم آبادی کا یہ اعتراض ہے کہ سوئی گیس بلوچستان سے نکلتا ہے تو بلوچستان کو کیوں نہیں مل رہا تو وہ جناب فرماتے ہیں کہ سوئی گیس بلوچستان کے دارالحکومت تک بہت خرچہ آئے گا وہ سوئی سے بہت دور ہے جبکہ پنجاب وہاں سے چند میل کے فاصلہ پر ہے بقول انکے کہ پنجاب ڈیرہ بگٹی سے 30 میل کے فاصلہ پر ہے چلو مان لیتے ہیں پنجاب وہاں سے نزدیک ہے اور بلوچستان کے دوسرے علاقے بہت دور ہے تو آپ وہاں کے آس پاس کے علاقے کو کیوں گیس کی سہولت فراہم نہیں کرتے حالانکہ پنجاب سے زیادہ تو حق وہاں کے مکینوں کا ہے جہاں سے تم گیس نکال کے اپنی انڈسٹری تک پہنچا رہے ہو اور آ پ لوگوں کو بلوچستان کی محرومیوں کا اتنا ہی خیال ہے تو سوئی گیس میں کوئی انڈسٹری کھڑی کیوں نہیں کرتے اور وہاں کے لوگوں کو روزگار فراہم کیوں نہیں کرتے مزید وہ  بلوچستان کے باشندوں سے گلہ کرتے ہیں کہ ہم لوگ گیس لیکر اپنی فیکٹریوں سے کروڑوں روپے آمدن کماتے ہیں اور بلوچ لوگ اس آمدنی سے اپنا حصہ مانگتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اپنی آمدنی میں سے ہمیں ہمارا حصہ دو ہم کیوں انکو حصہ دے دیں اور ایک غیر معقول مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں اگر ہم پنجاب کے لوگ روئی کو سستے داموں دوسرے ممالک برآمد کرتے ہیں تو وہ اس سے مہنگے کپارے بناتے اور منافع کماتے ہیں تو ہم بھی ان سے اس منافع کی مد میں اپنا حصہ وصول کریں  اور ان پر اپنا حق تسلیم کریں

Comments

کرد بلوچ

شہید سائیں عبدالباقی جان مروی

اینو ہرا استی نا زی آ نن لکھنگ کن قلم ارفینون اونا بارو اٹ لکھنگ یا گڑا اس نوشت کنگ باز مشکل او کاریم اسے او ہستی نا شان ،مرتبہ ،دبدہ و رعب انداخس زیات اس کہ اوفتا پانگ نن کونا نابود آ تا وس آن پیشن اے ولے ولدا ام اوفتا باروٹ نن تینا مخلوق اے سہی کنگ اوفتا موجودگی ٹی علاقہ نا انت صورتحال اس اوفک امر زند تیر کریرہ راج اٹ اوفتا عزت اخس اس مخلوق تا ویل اے او ارا وڑ مر کریرہ دا کل گڑا تے نوشت کنگ نن تینا زی آ فرض خیال کینہ ارا گڑا اے نن اوفتا نگرانی محسوس کرین اوفک ننا تربیت اے ارا وڑ کریر دین انا زی آ افتا اخس کنٹرول اس دا کل اے نن خوانہ باید ننا بروکا مخلوق اے سما تمر تو خواجہ غاک نن گپ کنگ اون پیر سائیں عبدالباقی جان مروی نا باروٹ سائیں جان امو استی اس کہ راج انا کل مخلوق نا دڑد و ویل اے تینا دڑد و ویل چائسکہ او تینا مخلوق کہ خنی کنگ کن اسہ مدرسہ اس  ام چلیفیکہ اراٹی ناظرہ، تعلیم القران،فارسی،صرف و نحو نا قانود او عربی ایل تسرہ او  اینو پدے اسکا دا انداڑے دا کل ایل  تنگ گن او سائیں باقو جان علاقہ ٹی  مخلوق نا جنگ و جیڑ آ تے ام خلاس کریکہ جاگہ اس پڈڈہ اس مروسس چنک...

بابو عبدالرحمن کرد پرائمری سکول کی خستہ حالی

آج بہت دنوں بعد جب میں یونیورسٹی سے گھر چلا گیا تو صبح کے وقت میں نے اپنے گاؤں کے سکول جانے کا ارادہ کیا. سکول ہمارے گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع ہے جب میں وہاں پونچھا تو بچوں کی تعداد دیکھ کر میں حیران رہ گیا سکول میں صرف چار بچے آئے تھے اور استاد بھی موجود نہیں تھا. بچے مجھے دیکھ کر پریشان ہوئے اور اپنی کتابیں کھول کر پڑھنے لگے میں نے بچوں کو سلام کیا اور پھر وہاں ان کے ساتھ بیٹھ گیا سب سے پہلے میں نے ایک بچے سے ان کے استاد کے بارے میں پوچھا بیٹا، آج استاد نہیں آیا ہے اس نے معصومیت بھرے لہجے میں جواب دیا وہ تو کوئٹہ چلے گئے ہیں آج وہ نہیں آئے گا جانے کے وقت اس نے بتایا تھا کہ کل وہ نہیں آسگے گی. سکول کی خستہ حالی اور استاد کی غیر موجودگی دیکھ کر مجھے میرا بچپن یاد آگیا میرا بچپن بھی اسی اسکول میں گزرا تھا اور میں نے پرائمری تک تعلیم اس سکول سے حاصل کی اس وقت بچوں کی تعداد لگ بھگ دو سو چالیس تک تھی اور ہمارے دو استاد تھے ایک کا نام تھا استاد داؤد شاہ اور دوسرا استاد حیدر تھا. استاد داؤد شاہ تھوڑے سخت مزاج کے تھے اور استاد حیدر تھوڑے نرم مزاج کے لیکن انکے پڑھانے کا انداذ بہ...

لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا احتجاجی اور حکومت کی ذمہ داری

تحریر کرد بلوچ نومبر 11, 2011ب ایک بہن اپنے گھر کے چراغ کو تلاش کرنے پریس کلب کوئٹہ پہنچی ہے. اس کے بھائی کو لاپتہ ہوئے کتنا عرصہ بیت چکا ہے لیکن ابھی تک اس کے بھائی کا کوئی پرسانِ حال نہیں. ابھی تک ان کو یہ بھی نہیں پتہ ان کا بھائی زندہ بھی ہے یا نہیں؟. سماج کی خاموشی سے تنگ آ کر آج خود پریس کلب پہنچا ہے اور اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہا ہ نجانے کتنی مائیں، کتنی بہنیں اور کتنی بیویاں اپنے گھر کے چراغ کو ڈھونڈنے اتنا بڑا سفر طے کر کے پریس کلب کے سامنے جمع ہیں اور احتجاجی کیمپ میں بیٹھے ہوئے ہیں. ماما قدیر کے ہمراہ یہ سارے لوگ اسلام آباد تک پیدل جا چکے ہیں لیکن وہاں بھی ان لوگوں کی کوہی شنواہی نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی خاطر خواہ جواب ملا. ماما قدیر اس وقت لانگ مارچ کی سربراہی کر رہے تھے اور ان سب کا مسکن بنا ہوا تھا. مشرف دور میں نواب بگٹی کی شہادت کے بعد سے بلوچوں کو اغوا کر کے کے غائب کرنے کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، وہ بلوچ قوم آج تک بھگت رہی ہے اور اس وقت سے لے کر آج تک یہ سارے لوگ اپنے پیاروں کی واپسی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں. مستونگ، کابو، اسپلنجی، مشکے، مچھ بولان،...

بلوچستان کا پسماندہ ترین علاقہ

بلوچستان کا پسماندہ ترین علاقہ ولید بلوچ نومبر 10, 2018 بلاگ بلوچستان کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جو پسماندہ علاقوں میں شمار ہوتے ہیں. ایسا ہی ایک علاقہ ہے جو کہ دشت مرو گڑھ کے نام سے جانا جاتا ہے یہ کولپور سے 25 کلو میٹر کے فاصلہ پر جنوب میں واقع ہے. یہاں براہوی بلوچ کے بہت سے قبائل صدیوں سے آباد ہیں جن میں کرد، ساتکزئی، بنگلزئی، پرکانی، سرمستانی، لانگو، پہلوانزئی اور مینگل آباد ہیں. ان میں اکثریت کرد قبیلے کی ہے. مرو کی کل آبادی تقریباً 5000 افراد کے لگ بھگ ہے جو کہ سات وارڈ پر مشتمل ہے. جن کے نام یہ یہ ہیں؛ کنڈماس پھل مرو، گیت، گڑھ مرو، تلخکاوی، زھری گٹ، مل، اور کابو. صحت تعلیم اور کھیل کے حوالے سے یہاں کچھ بھی اقدامات نہیں ہو رہے ہیں. یہاں نہ کوئی اسپتال ہے اور نہ ہی مڈل یا ہائی اسکول موجود ہے. جب کوئی بندہ بیمار ہوتا ہے تو علاج کے لیے اسے کوئٹہ لانا پڑتا ہے جو کہ مرو سے 70 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے. اگر تعلیم کے حوالے سے دیکھا جائے تو پرائمری کے بعد زیادہ تر بچے آگے نہیں پڑھ پاتے. اگر کچھ بچے اگے پڑھ بھی لیں تو انہیں 25 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے کولپور جانا پڑتا ہے. ایسے می...

پاکستان کے مشکل و پیچیدہ سیاسی صورتحال

کرد بلوچ پاکستان اس وقت بہت ہی مشکل دور سے گزر رہا ہے. ایک طرف مذہبی رہنماؤں کی گرفتاری میں تیزی آ رہی ہے تو دوسری طرف حکومت کے کارندے آسیہ بی بی کو باہر بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں. آسیہ بی بی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں ہوا تھا، جس میں آسیہ بی بی کو باعزت بری کر دیا گیا تھا. آسیہ بی بی پر الزام ہے کہ اس نے نبی پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں اور نبی کی شان میں گستاخی بھی کی ہے. ان پر یہ الزام ان کے ساتھ کام کرنی والی ساتھیوں نے لگایا تھا. پہلے پہل تو ہائیکورٹ نے اس کو سزائے موت سنائی تھی لیکن دوبارہ کیس ری اوپن ہونے کی صورت میں فیصلہ آسیہ بی بی کے حق میں چلا گیا. سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی مذہبی رہنماؤں کی طرف سے غم وغصے کا اظہار کیا گیا اور دوبارہ احتجاج کرنے کے لیے 25 نومبر کو اپنے کارکنوں کو تیار رہنے کا حکم ملا. اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے مذہبی رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا حکم نامہ جاری کیا اور آہستہ آہستہ پورے ملک میں مذہبی رہنماؤں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا گیا. اپنے رہنماؤں کی گرفتاری کی خبر سنتے ہی کارکنوں...

ایک پیغام بلوچستان کے نام

کرد بلوچ بلوچستان سے ہونے والی زیادتی اور ناانصافی کی وجہ آخر کیا ہو سکتی ہے؟!۔ مشرف کے دور سے لے کر اب تک لاپتہ افراد میں کیوں اضافہ ہوا؟ کیوں ہمارے بلوچ بھائی ٹارگٹ ہوتے رہے؟ پہلے جو زیادتی بلوچوں کے ساتھ ہوئی، اب وہی چیز ہمارے پشتون بھائیوں کے ساتھ ہو رہی ہے۔ جیسا کہ آج کل وزیرستان سے آواز بلند ہو رہی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاں وہاں پر بھی آواز بلند کرنے کی صورت میں زندان میں ڈالا جاتا ہے؟ کیا وہاں پر بھی ہر چیک پوسٹ پر بوڑھوں اور جوانوں کو تنگ کیا جاتا ہے؟۔ ماضی کے دور میں بھی یہی ہوتا رہا۔ اس دور میں خان شہید باچا خان، میر عبدالعزیز کرد، محمد حسین عنقا بلوچ اور دیگر نے آواز بلند کی۔ بلوچستان میں سب سے پہلے میر عبدالعزیز کرد نے 1921 میں آواز بلند کی اور انگریزوں کے خلاف ڈٹے رہے۔ ان لوگوں نے بلوچستان کے لوگوں کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی اور اپنے عوام کے ساتھ کھڑے رہے۔ آج کل جمہوریت ہے۔ بی این پی، بی اے پی، پشتون خواہ عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی جمہوریت کا حصہ ہیں۔ ان سب کی موجودگی کے باوجود بلوچستان میں یہ سودے بازی اور ناانصافی کی آخر کیا وجہ ہ...