کرد بلوچ
بلوچستان سے ہونے والی زیادتی اور ناانصافی کی وجہ آخر کیا ہو سکتی ہے؟!۔
مشرف کے دور سے لے کر اب تک لاپتہ افراد میں کیوں اضافہ ہوا؟ کیوں ہمارے بلوچ بھائی ٹارگٹ ہوتے رہے؟ پہلے جو زیادتی بلوچوں کے ساتھ ہوئی، اب وہی چیز ہمارے پشتون بھائیوں کے ساتھ ہو رہی ہے۔ جیسا کہ آج کل وزیرستان سے آواز بلند ہو رہی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاں وہاں پر بھی آواز بلند کرنے کی صورت میں زندان میں ڈالا جاتا ہے؟ کیا وہاں پر بھی ہر چیک پوسٹ پر بوڑھوں اور جوانوں کو تنگ کیا جاتا ہے؟۔
ماضی کے دور میں بھی یہی ہوتا رہا۔ اس دور میں خان شہید باچا خان، میر عبدالعزیز کرد، محمد حسین عنقا بلوچ اور دیگر نے آواز بلند کی۔ بلوچستان میں سب سے پہلے میر عبدالعزیز کرد نے 1921 میں آواز بلند کی اور انگریزوں کے خلاف ڈٹے رہے۔ ان لوگوں نے بلوچستان کے لوگوں کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی اور اپنے عوام کے ساتھ کھڑے رہے۔
آج کل جمہوریت ہے۔ بی این پی، بی اے پی، پشتون خواہ عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی جمہوریت کا حصہ ہیں۔ ان سب کی موجودگی کے باوجود بلوچستان میں یہ سودے بازی اور ناانصافی کی آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ اب تو سعودی عرب اور چین جیسی عالمی طاقتیں ہماری سرزمین پر اپنا قبضہ جما چکی ہیں۔ آیا ہم ان طاقتوں سے نمٹ سکیں گے۔
چائنا کی آبادی بہت زیادہ ہے اور بلوچستان میں وسائل اور رقبہ زیادہ ہے، کیا چائنا ہمارے علاقوں پر اپنا قبضہ جمائے گا یا پھر چائنا یہاں پر صرف سرمایہ کاری کرے گا۔ اگر بات سرمایہ کاری کی ہوتی ہے تو بلوچستان کو شروع سے لے کر اب تک اس سے کیا فائدہ پہنچا ہے۔
گوادر کو پانی کے درپیش مسائل کس وجہ سے ہیں؟ وہاں پانی اتنا مہنگا کیوں مل رہا ہے۔ اب تو یہ صورت حال ہے کہ ماہی گیروں کو ساحل پر جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔ یہ تو شروعات ہے، آگے آگے دیکھیے کیا ہوگا۔
کیا یہ تیسری جنگ عظیم کی طرف اشارہ تو نہیں؟
کیا آگے جا کر بلوچستان کی سرزمین جنگ کے لیے استعمال تو نہیں ہو گی؟
یہ ساری باتیں ھمارے ذہنوں میں ہی کیوں آتی ہیں، ہمارے حکمرانوں کے ذہن میں یہ باتیں کیوں نہیں آتیں۔ اور اگر آتی ہوں گی تو وہ عوام سے کیوں چھپاتے ہیں۔ ہمارے نمائندوں کی موجودگی میں یہ سب کیسے ہو رہا ہے؟۔
بی این پی کی حکومت نے چھ نکات حکومت کو پیش کیے، ان نکات میں سے ایک نکتہ ایف سی کو واپس بھیجنے کا تھا۔ اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا ہے۔ کیوں ہمیں ہر چیک پوسٹ پر ایف سی والوں کو یقین دلانا پڑتا ہے کہ ہم یہاں کے شہری ہیں اور اسی دھرتی ماں کے بچے ہیں۔
میں اپنے اپنے نمائندوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس پر عمل درآمد نہ ہونے کے باوجود آپ لوگ چپ کیوں ہیں؟ کیا عوام نے آپ لوگوں کو چھپ رہنے کے لیے منتخب کیا؟۔
آپ لوگوں کو بولنا ہوگا۔ پورے بلوچستان کے عوام آپ لوگوں کے ساتھ ہیں۔ تاریخ گواہ ہے جب جب اس دھرتی پر کوئی مصیبت آئی ہے اس کے لوگ ایک ہو گئے ہیں۔ اب بھی ایک ہونے کا وقت ہے۔ بلوچ پشتون کی سیاست چھوڑ کر اپنی آنے والی نسل کی بقا کے لیے کچھ کیا جائے اور بلوچستان میں ہونے والی زیادتی اور ناانصافیوں کا حساب مانگا جائے۔
اینو ہرا استی نا زی آ نن لکھنگ کن قلم ارفینون اونا بارو اٹ لکھنگ یا گڑا اس نوشت کنگ باز مشکل او کاریم اسے او ہستی نا شان ،مرتبہ ،دبدہ و رعب انداخس زیات اس کہ اوفتا پانگ نن کونا نابود آ تا وس آن پیشن اے ولے ولدا ام اوفتا باروٹ نن تینا مخلوق اے سہی کنگ اوفتا موجودگی ٹی علاقہ نا انت صورتحال اس اوفک امر زند تیر کریرہ راج اٹ اوفتا عزت اخس اس مخلوق تا ویل اے او ارا وڑ مر کریرہ دا کل گڑا تے نوشت کنگ نن تینا زی آ فرض خیال کینہ ارا گڑا اے نن اوفتا نگرانی محسوس کرین اوفک ننا تربیت اے ارا وڑ کریر دین انا زی آ افتا اخس کنٹرول اس دا کل اے نن خوانہ باید ننا بروکا مخلوق اے سما تمر تو خواجہ غاک نن گپ کنگ اون پیر سائیں عبدالباقی جان مروی نا باروٹ سائیں جان امو استی اس کہ راج انا کل مخلوق نا دڑد و ویل اے تینا دڑد و ویل چائسکہ او تینا مخلوق کہ خنی کنگ کن اسہ مدرسہ اس ام چلیفیکہ اراٹی ناظرہ، تعلیم القران،فارسی،صرف و نحو نا قانود او عربی ایل تسرہ او اینو پدے اسکا دا انداڑے دا کل ایل تنگ گن او سائیں باقو جان علاقہ ٹی مخلوق نا جنگ و جیڑ آ تے ام خلاس کریکہ جاگہ اس پڈڈہ اس مروسس چنک...
Comments
Post a Comment