Skip to main content

لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا احتجاجی اور حکومت کی ذمہ داری

تحریر کرد بلوچ نومبر 11, 2011ب ایک بہن اپنے گھر کے چراغ کو تلاش کرنے پریس کلب کوئٹہ پہنچی ہے. اس کے بھائی کو لاپتہ ہوئے کتنا عرصہ بیت چکا ہے لیکن ابھی تک اس کے بھائی کا کوئی پرسانِ حال نہیں. ابھی تک ان کو یہ بھی نہیں پتہ ان کا بھائی زندہ بھی ہے یا نہیں؟. سماج کی خاموشی سے تنگ آ کر آج خود پریس کلب پہنچا ہے اور اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہا ہ نجانے کتنی مائیں، کتنی بہنیں اور کتنی بیویاں اپنے گھر کے چراغ کو ڈھونڈنے اتنا بڑا سفر طے کر کے پریس کلب کے سامنے جمع ہیں اور احتجاجی کیمپ میں بیٹھے ہوئے ہیں. ماما قدیر کے ہمراہ یہ سارے لوگ اسلام آباد تک پیدل جا چکے ہیں لیکن وہاں بھی ان لوگوں کی کوہی شنواہی نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی خاطر خواہ جواب ملا. ماما قدیر اس وقت لانگ مارچ کی سربراہی کر رہے تھے اور ان سب کا مسکن بنا ہوا تھا. مشرف دور میں نواب بگٹی کی شہادت کے بعد سے بلوچوں کو اغوا کر کے کے غائب کرنے کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، وہ بلوچ قوم آج تک بھگت رہی ہے اور اس وقت سے لے کر آج تک یہ سارے لوگ اپنے پیاروں کی واپسی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں. مستونگ، کابو، اسپلنجی، مشکے، مچھ بولان، اور کوئٹہ سے جتنے بھی افراد اغوا یا لاپتہ کیے گئے ہیں ان کا ابھی تک پتا نہیں چل پا رہا. کوئٹہ جو کہ تاریخی حوالے سے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے، اس شہر کو شال کوٹ بھی کہا جاتا ہے کوئٹہ کو خان احمد شاہ ابدالی نے نوری نصیر خان بلوچ کی والدہ کو بطور شال پیش کیا تھا، ماضی میں کافروں کے خلاف جنگ کے دوران جب کوئی خان صاحب کو خبر دیتا ہے کہ نوری نصیر خان بلوچ نے میدانِ جنگ چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کی ہے اور خان احمد شاہ ابدالی یہ خبر نوری نصیر خان بلوچ کی ماں کو پہنچاتا ہے کہ تمہارا بیٹا میدانِ جنگ چھوڑ کر بھاگ گیا ہے. نوری نصیر خان بلوچ کی ماں یہ سن کر خان صاحب کو جواب دیتا ہے، نوری نصیر خان بلوچ نہیں بھاگ سکتا کیونکہ میں نے اسے ہر وقت باوضو ہو کر دودھ پلایا ہے، لہٰذا یہ خبر جھوٹ ہے. کچھ ہی لمحوں بعد خان صاحب کو خبر ملتی ہے کہ نوری نصیر خان جنگ فتح کر کے واپس آ رہے ہیں، یہ خوش خبری سن کر خان صاحب کوئٹہ کو بطور شال نوری نصیر خان کی ماں کو پیش کرتا ہے. آج کل شبیر بلوچ کی بہن بھی اس احتجاج کا حصہ ہے اور لاپتہ افراد کی کیمپ میں موجود اپنے بھائی کے لیے احتجاج میں ماما قدیر اور دوسرے لوگوں کے ہمراہ موجود ہیں، اور پوچھ رہی ہے کہ میرے بھائی نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالت میں لایا جائے اور اسے قانون کے حساب سے سزا دی جائے، ورنہ اسے بازیاب کیا جائے. حکومت کا فرض ہے کہ اس جائز مطالبے کو فورآ پورا کرے تاکہ شہریوں کا قانون کی عمل داری پر اعتماد قائم رہے.

Comments