بلوچتسان کے تاریخ کے اوپر لکھی گئی کتاب آئینہ بلوچستان جسے ایک عسکری ادارے کے برگیڈیئر محمد اسماعیل صدیقی نے لکھا ہے صدیقی صاحب نے اس کتاب میں یہاں بلوچستان کے رہنے والے کو ان پڑھ جائل اور نا دانستہ شمار کیا ہے وہ جگہ جگہ پہ بلوچ قوم کی ان سچائی سے منہ پھیر لیتا ہے جسے موجودہ دور میں ہم بخوبی سمجھ اور بوجھ سکتے ہیں انکی یہ کاوش مقامی پنجاب کے لوگوں کے لئے تو کارآمد ثابت ہوسکتا ہے مگر اہل بلوچستان کو ان سے کوئی فائدہ نہیں مل سکتا کیونکہ بلوچ باشندہ اپنے محرومیوں کے ذمہ داران کو خوب اچھی طرح سے پہچان لیتے ہیں اور انکا ادراک کس طرح ممکن ہے اس چیز سے بھی بخوبی آشنا ہے وہ اپنی اس کتاب میں جگہ جگہ خود کو اشرف المخلوقات خیال کرکے بلوچ قوم کو اپنے احسان تلے کچلنے کی کوشش کی ہے اور ہر جگہ یہ جتانے کی کوشش کی ہے کہ ہم بحیثیت بلوچ قوم ایک بھیڑوں کا رہوڑ ہے جسے وہ پال پوس کر بڑا کر رہا ہے وہ ہمارے سرداروں اور نوابوں کو تعلیم دشمن عناصر اور ترقی مخالف خیال کرتا ہے جو کہ سراسر اس کی کمی فہمی پر مشتمل ہے ایک جگہ وہ اپنی کہانی میں بلوچ قوم کو اس قدر نا...