Skip to main content

Posts

Showing posts from 2022

وہ ہم سے بچھڑا نہیں ہم نے جانے دیا

اتنے مضبوط اعصاب کا مالک تھا کہ اپنی دکھ غم کو کسی کے سامنے بھی ظاھر ہونے نہیں دیا دو سال سے بھی زیادہ وہ ایک ہی جگہ پڑا رہا وہ کروٹ بھی بدل نہیں سکتا تھا کروٹ بدلنے کے لئے بھی اسے کسی کے سہارے کی ضرورت پڑتی مگر ان سب کے باوجود وہ اپنی عیادت کے لئے آنے والوں سے خندہ پیشانی سے ملتا انکے ساتھ بات کرتا اپنی معذوری کے متعلق اس نے کبھی کسی سے گلہ کیا اور نہ خدا سے شکایت کی ابھی اس کی عمر بیس بائیس سال کی تھی جب اسے ایک دن اچانک کمر میں تکلیف کا احساس ہوا اور وہ وہی زمین پر گر گیا اس نے بہت کوشش کی مگر اس کے پاوں جواب دے چکے تھے اگر کوئی اس کو ہاتھ بھی لگا لیتا تو اسے محسوس ہی نہیں ہو پا تھا کہ کوئی اس کے پاوں کو ہاتھ لگا رہا ہے پتہ نہیں کیسی مرض تھی وہ جس سے کبھی جانبر نہ ہوسکی کوئٹہ کے ایک نیرولوجسٹ سے علاج کروایا دو ایک ہفتوں تک کچھ بھی افاقہ نہیں ہوا پھر کراچی کے آغا خان ہسپتال یا نیشنل ہسپتال میں دو تین دفعہ لے جیا گیا مگر اس کے صحت میں ذرا برابر فرق نہیں ڈاکٹری علاج کے علاوہ روحانی علاج بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا سید کے ہاس لے گئے پیر مرید کے ہاس لے گئے مگر کچھ بھی نہیں ہوا آخر سب ن...

ہمارے رہنما یا ہمارے سوداگر

سن انتالیس کے سیاست اور;آج کی سیاست کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو دونوں یکساں طور پر سامنے آتے ہیں خیر اس وقت تو اتنی ترقی نہیں ہوتی تھی اور دنیا اتنی سوشلائز بھی نہیں تھی انگریز جو چائےجس طرح چائے اپنی من مانی کیا کرتے تھے اور ان کے عوام کے اوپر ظلم و ستم اس طرح لوگوں پہ آشکار نہں ہوا کرتے تھے جس طرح آج کے زمانہ میں ایک پتہ ہل جانے سے بھی پورا سماج با خبر ہوجاتا ہے مگر پھر بھی اس وقت لوگ اپنی حق کے لئے اپنی بقا و انا کے لئے سڑکوں پہ نکلتے تھے احتجاج کرتے تھے سیاسی قیادت لوگوں کے ساتھ مل کر انگریزوں سے اپنی آزادی کی مانگ کیا کرتے تھے پر اب ایسا نہیں ہے سیاسی ٹولہ حکومت کی ستم ظریفی اور ناجائز کاموں پر انکی واہ واہ اور جے جے کار کرتا ہے ۔ آج کے دور میں چھوٹی سی بھی چھوٹی حرکت کیمرہ کے آنکھ میں سما جاتی ہے ساری دنیا کو پتا چل جاتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہورہا مگر پھر بھی ہمارے اوپر جو حکمران مسلط ہیں وہ یہ سب دیکھ کر خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں ہر ٹولہ یہاں کے معاملات کو لے کر اپنی سیاست چمکانے کے تگ و دود میں لگا ہے ہوا ہے ہر کسی کی یہی خواہش ہے کہ اگلا الیکشن آجائے اور ساری...

شال کی یادیں

  شال کی یادیں کتاب پڑھنے کا کافی عرصہ سے تمنا تھی دل بہت چاہتا تھا کہ زرک کی وہ یادیں آخر کس طرح ہونگی جس میں انھوں نے بیتے دنوں کو یاد کیا ہے ایک دو دفعہ کسی دوست کو فون پر بتایا بھی تھا کہ میرے لئے کوئٹہ سے یہ کتاب بھیج دیں مگر میری یہ تمنا پوری نہیں ہوئی آخر کار ایک دن میں وٹس ایپ استعمال کر رہا تھا اور وٹس ایپ کہ میسجز پڑھ رہا تھا میسجز پڑھتے ہوئے ایک کتاب پر میری نظر پڑی جسے گروپ کے ایڈمن نے گروپ میں شئیر کیا تھا میری خوشی کی انتہا نہ رہی کیوں کہ میرے وٹس ایپ کے وال پہ زرک میر کی کتاب موجود تھی جو میں کافی دنوں سے تجسس میں تھا کہ کب مجھے یہ کتاب ملے گا اور میں اس کو پڑھو گا اور آج میری دلی خواہش پوری ہو رہی تھی خیر جب کتاب کو ڈاونلوڈ کیا اور اس کو پڑھنا شروع کیا  شروع شروع میں مجھے لگا کہ کسی نہ اس کتاب کا پیش لفظ بھی نہیں لکھا ہے اور یہ کوئی غیر معمولی کتاب ہوگی جس کے پیش لفظ لکھنے کی بھی کسی نے زحمت نہیں کی مگر میں اس وقت غلط ثابت ہوا جب میں نے زرک میر کی بقلم خد نوشت پیش لفظ پڑھی جس نے مجھے کتاب پڑھنے پڑھنے پر مجبور کردیا یہ کتاب قسط وار لکھی گئی تھی جب پہلا ...