شال کی یادیں کتاب پڑھنے کا کافی عرصہ سے تمنا تھی دل بہت چاہتا تھا کہ زرک کی وہ یادیں آخر کس طرح ہونگی
جس میں انھوں نے بیتے دنوں کو یاد کیا ہے ایک دو دفعہ کسی دوست کو فون پر بتایا بھی تھا کہ میرے لئے کوئٹہ سے یہ کتاب بھیج دیں
مگر میری یہ تمنا پوری نہیں ہوئی آخر کار ایک دن میں وٹس ایپ استعمال کر رہا تھا اور وٹس ایپ کہ میسجز پڑھ رہا تھا میسجز پڑھتے ہوئے ایک کتاب پر میری نظر پڑی جسے گروپ کے ایڈمن نے گروپ میں شئیر کیا تھا میری خوشی کی انتہا نہ رہی کیوں کہ میرے وٹس ایپ کے وال پہ زرک میر کی کتاب موجود تھی
جو میں کافی دنوں سے تجسس میں تھا کہ کب مجھے یہ کتاب ملے گا اور میں اس کو پڑھو گا اور آج میری دلی خواہش پوری ہو رہی تھی خیر جب کتاب کو ڈاونلوڈ کیا اور اس کو پڑھنا شروع کیا
شروع شروع میں مجھے لگا کہ کسی نہ اس کتاب کا پیش لفظ بھی نہیں لکھا ہے
اور یہ کوئی غیر معمولی کتاب ہوگی جس کے پیش لفظ لکھنے کی بھی کسی نے زحمت نہیں کی مگر میں اس وقت غلط ثابت ہوا جب میں نے زرک میر کی بقلم خد نوشت پیش لفظ پڑھی جس نے مجھے کتاب پڑھنے پڑھنے پر مجبور کردیا
یہ کتاب قسط وار لکھی گئی تھی جب پہلا قسط میں نے پڑھنا شروع کیا تو میرے پسندیدہ شخص کا ذکر اس میں بارہا مجھے ملا اور میں مزید شوق سے یہ کتاب پڑھنے میں جت گیا اور پہلے ہی بیٹھک میں میں نے اس کتاب کی نو اقساط پڑھ ڈالی جس میں زرک میر نے نہایت روانی اور خوبصورتی سے اس وقت کے معاملات کو اپنے انداز میں پیش کیا تھا
زرک نے اس وقت کی سیاست اور سیاسی معاملات پہ کافی سنجیدگی سے بات کی ہے
نواب خیر مری کی جلاوطنی سے لیکر انکی واپسی تک بڑے خوبصورت انداز میں قلم آزمائی کی ہے
زرک لکھتا ہے کہ جب نواب صاحب کی فلائٹ آنے والی تھی تو پورا بلوچستان ائیرپورٹ پہ جمع تھا جب جہاز کی کوئٹہ کی بجائے اسلام آباد میں لینڈ کرگیا تو لوگ بجائے واپس جانے کے وہی ڈھیرے جمالیے اور صبح کا انتظار کرنے لگے جب اگلے دن سورج طلوع ہوا تو مزید لوگ جمع ہوگئے
اور سب ایک ساتھ نعرہ لگاتے رہے کہ نواب مری آئینگے انقلاب لائینگے
جب اگلے دن نواب صاحب تشریف لاتے ہیں تو بہت سے لوگ انکی استقبال کے لئے اپنے اپنے گاڑیوں میں انکے کے ہمراہ انکی رہائش گاہ کی طرف چلتے ہیں اسی اثناء میں بہت سے لوگ نعرہ بازی کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ بھی کرتے جاتے ہیں جب یہ قافلہ نوروز اسٹیڈیم سے ہوتا ہوا بلوچستان چواک پر پہنچتا ہے اور پھر وہاں سے ارباب کرم خان روڈ نواب صاحب کی رہائش گاہ کے قریب رکھتا ہے اور نواب صاحب سن روف سے نکل کر سفید رنگ کی مائک ہاتھ میں لے کر لوگوں سے بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ لوگ ایک ہارے ہوئے جرنیل کا استقبال کرنے کے لئے آئے جس کی مجھے بہت زیادہ خوشی ہے مجھے یہ توقع بھی نہیں تھی کہ آپ لوگ ایک ہارے ہوئے جرنیل کا اس انداز میں استقبال کریں گے
آپ کی محبت اور خلوص کو دیکھ کر مجھے کافی اچھا لگا
اپنی اس کتاب میں زرک میر بلوچ پشتون تضاد کا بھی ذکر کرتا ہے جہاں ڈگری کالج ،سائنس کالج اور یونیورسٹی آف بلوچستان میں روز کا معمول تھا چھوٹی چھوٹی باتوں پر بلوچ اور پشتون ایسے الجھ جاتے تھے جیسے وہ ایک ازل سے ایک دوسرے کے دشمن رہے اس کتاب کو پڑھ کر آپ کو ایس لگے گا کہ آپ کوئی یاداشت نہیں پڑھ رہے ہو بلکہ بلوچستان کی تاریخ پڑھ رہے ہیں
آگے پھر نواب مری کا ذکر ملتا ہے کہ وطن واپسی پر اس کے معمولات کیا رہے وہ لکھتے ہیں کہ نواب صاحب نے سیاست سے بالکل غافل رہے
اور چھپ سادھ لی اور حق توار کے نام سے ایک اسٹڈی سرکل حق توار کے نام سے قائم کی جس میں متواتر بلوچ نوجوان شرکت کرتے رہے جس میں میر عبدالنبی بنگلزئی، علی شیر کرد اور دوسرے نظریاتی ساتھی شامل ہوتے رہے اور روزانہ موجودہ حالات اور معاملات پر گفتگو کرتے رہتے
حمید بلوچ کا ذکر بھی اس کتاب میں ملتا ہے کہ کس طرح اس نے عمان فوج میں بھرتی کرنے والے آفیسر پہ قاتلانہ عملہ کیا جس کی پاداش میں اسے سزا موت کی سزا سنائی دی گئی اور وہ کس طرح بلوچ قوم میں ایک ہیرو کہ طرح ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے
شہید نواب اکبر خان بگٹی کے زندگی کی نشیب فراز حالات کو بھی بیان کرتا ہے کہ کس طرح ایک وقت میں وہ اپنے سیاسی غلطیوں کے بدولت ایک نعرہ کے طور پر یاد کئے جاتے تھے
اور وہ نعرہ تھا آمریت کہ تین نشان بھٹو بگٹی ٹکا خان اور بعد میں کس طرح سے وہ ڈاڈئے بلوچستان کا خطاب پاکر ایک ہیرو کے طور پر مادر وطن کے لئے اپنی جان نچاور کردی
اسکے
علاوہ وہ 1998 میں ہونے والے دو ایٹمی دھماکوں کو بھی نہیں بھولتا اس کے حوالے سے وہ لکھتا ہے
چاغی کے سینہ کو چھلنی کرنے والے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف گاڑی سردار اختر مینگل نے خد ڈراہیو کی تھی اور وہ بعد میں کس طرح ان سب چیوں سے خد کو بری الذمہ قرار دیتے رہے صحافیوں کے سوال کرنے پر جب اختر مینگل سے پوچھا جاتا ہے کہ اس نے بلوچستان میں کیوں دھماکہ ہونے دیا کیونکہ آپ وزیر اعلی تمہے اور آپ کی اجازت کہ بغیر یہاں کچھ نہیں ہوسکتا تو اختر صاحب جواب میں کہتے ہیں کہ ہمیں اس معاملے کی بالکل خبر نہیں تھی اور نہ ہی وفاق نے اس معاملے میں ہمارا اعتماد حاصل کیا ہے یہ سب ہمارے علم میں لائے بغیر کیا گیا ہے
اور جب دھماکہ ہونے کہ بعد جب اختر مینگل چاغی کا دورہ کرتے ہیں تو دوبارہ صحافی حضرات اسے گیرے میں لیتے ہیں
اور سوال کرتے ہیں کہ اختر مینگل صاحب کیا آپ کو نہیں لگتا اس دھماکہ کے برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں تو وہ بڑی خندہ پیشانی سے جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں بھی تو یہاں موجود ہو اور مجھ کچھ نہیں ہورہا
آگے وہ مشرف کی وہ کہی ہوئی بات اور واقعہ کا ذکر بھی کرتا ہے جسے بلوچستان میں میں لوگ اب تک نہیں بھلا پائے
مشرف پر جب ڈیرہ بگٹی میں راکٹ فائر کئے جاتے ہیں تو وہ نواب اکبر خان کو چیلنج دیتے ہوئے کہتے ہہں کہ ہم آپ کو و ہاں سے ہٹ کرینگے کہ آپ کو پتا بھی نہیں چلے گا اور آخر کار ایسا ہی کیا مشرف نے نواب صاحب پر ایک کیمیکل ہتھیار سے حملہ کیا جہاں نواب صاحب کے ساتھ دوسرے ساتھی بھی شہید ہوگئے اور یوں مشرف زندہ ہوکر بھی بے نام رہا اور نواب صاحب شہید ہوکر آج بھی ہم سب کہ دلوں میں زندہ ہیں
اور بھی بہت کچھ اس کتاب میں پڑھنے کو آپ سب کو ملیں گی اس کتابی میں ایسی ایسی باتوں کا پتہ چلتا ہے جس سے ہماری نئی نسل غافل ہےتحقیق کرنے والے طالب علموں کے لئے بھی اس کتاب میں کافی مواد موجود ہے اگر وہ بلوچستان کی پچھلی حکومتوں کی سیاسی حالات اور مزاحمتی تحریکوں کہ بارے جاننے کا خواہشمند ہو تو اس کو کتاب کو اسے ایک بار ضرور پڑھ لینی چائیے
Comments
Post a Comment