آج بہت دنوں بعد جب میں یونیورسٹی سے گھر چلا گیا تو صبح کے وقت میں نے اپنے گاؤں کے سکول جانے کا ارادہ کیا. سکول ہمارے گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع ہے جب میں وہاں پونچھا تو بچوں کی تعداد دیکھ کر میں حیران رہ گیا سکول میں صرف چار بچے آئے تھے اور استاد بھی موجود نہیں تھا.
بچے مجھے دیکھ کر پریشان ہوئے اور اپنی کتابیں کھول کر پڑھنے لگے میں نے بچوں کو سلام کیا اور پھر وہاں ان کے ساتھ بیٹھ گیا سب سے پہلے میں نے ایک بچے سے ان کے استاد کے بارے میں پوچھا
بیٹا، آج استاد نہیں آیا ہے اس نے معصومیت بھرے لہجے میں جواب دیا وہ تو کوئٹہ چلے گئے ہیں آج وہ نہیں آئے گا جانے کے وقت اس نے بتایا تھا کہ کل وہ نہیں آسگے گی.
سکول کی خستہ حالی اور استاد کی غیر موجودگی دیکھ کر مجھے میرا بچپن یاد آگیا میرا بچپن بھی اسی اسکول میں گزرا تھا اور میں نے پرائمری تک تعلیم اس سکول سے حاصل کی اس وقت بچوں کی تعداد لگ بھگ دو سو چالیس تک تھی اور ہمارے دو استاد تھے ایک کا نام تھا استاد داؤد شاہ اور دوسرا استاد حیدر تھا. استاد داؤد شاہ تھوڑے سخت مزاج کے تھے اور استاد حیدر تھوڑے نرم مزاج کے
لیکن انکے پڑھانے کا انداذ بہت ہی نرالا تھا مجھے یاد نہیں ہے کہ ہمارے استاد کسی دن بھی غیر موجود ہو اس وقت سکول کی عمارت بھی نئی بنی ہوئی تھی اور ہمارے اساتذہ نے دیواروں پہ خوبصورت پینٹگ بنائی تھی اور آج جب سکول کی خستہ حالی اور استاد کی غیر موجودگی کو دیکھ کر میرا دل بہت ہی افسردہ اور دلی دکھ بھی ہوئی.
میں بات کر رھا ہوں بابو عبدالرحمن کرد پرائمری سکول گڑھ مرو کی.
آج کل سکول کی صورت حال یہ ہے کہ گیٹ اور ایک طرف سے دیوار گرچکا ہے اور کھڑکیوں کے شیشے نہ ہونے کے برابر ہے اور واش روم کی حالت کسی گندگی کا منظر پیش کر رہے ہیں اور استاد کی غیر موجودگی روز کا معمول بن گیا ہے.
خدارا اس چیز پر توجہ دیں ورنہ ہم اپنی آنے والے نسل کے خود ذمہ دار ہونگے اور ہم کبھی بھی بابو عبدارحمن کرد اور میر عبدالعزیز کرد جیسے رہنما پیدا نہیں کر سکیں گے
اینو ہرا استی نا زی آ نن لکھنگ کن قلم ارفینون اونا بارو اٹ لکھنگ یا گڑا اس نوشت کنگ باز مشکل او کاریم اسے او ہستی نا شان ،مرتبہ ،دبدہ و رعب انداخس زیات اس کہ اوفتا پانگ نن کونا نابود آ تا وس آن پیشن اے ولے ولدا ام اوفتا باروٹ نن تینا مخلوق اے سہی کنگ اوفتا موجودگی ٹی علاقہ نا انت صورتحال اس اوفک امر زند تیر کریرہ راج اٹ اوفتا عزت اخس اس مخلوق تا ویل اے او ارا وڑ مر کریرہ دا کل گڑا تے نوشت کنگ نن تینا زی آ فرض خیال کینہ ارا گڑا اے نن اوفتا نگرانی محسوس کرین اوفک ننا تربیت اے ارا وڑ کریر دین انا زی آ افتا اخس کنٹرول اس دا کل اے نن خوانہ باید ننا بروکا مخلوق اے سما تمر تو خواجہ غاک نن گپ کنگ اون پیر سائیں عبدالباقی جان مروی نا باروٹ سائیں جان امو استی اس کہ راج انا کل مخلوق نا دڑد و ویل اے تینا دڑد و ویل چائسکہ او تینا مخلوق کہ خنی کنگ کن اسہ مدرسہ اس ام چلیفیکہ اراٹی ناظرہ، تعلیم القران،فارسی،صرف و نحو نا قانود او عربی ایل تسرہ او اینو پدے اسکا دا انداڑے دا کل ایل تنگ گن او سائیں باقو جان علاقہ ٹی مخلوق نا جنگ و جیڑ آ تے ام خلاس کریکہ جاگہ اس پڈڈہ اس مروسس چنک...
Comments
Post a Comment