سورج کا شہر گوادر ایک کتاب جس میں ڈاکٹر شاہ محمد مری گوادر کے احاطہ میں انسانی حقوق کے وفد کے ساتھ وہاں کے حالات کا جائزہ لینا جاہتا ہے اور ساتھ ساتھ آرٹیکل لی شکل میں اپنے روز کے معمول کا حوالہ دیتا ہے ڈاکٹر صاحب کی یہ کتاب دو ہزار چار میں شائع ہوئی تھی مگر اب تک بلوچستان میں بڑے پیمانے پر نئی نسل اس کو پڑھنے سے قاصر ہے ڈاکٹر صاحب اس بات کا اعتراف مذکورہ کتاب کی دوسری ایڈیشن پر اسکے دیباچہ میں کرتے ہیں کہ ہم نے یہ کتاب لکھی اور شائع کیا اس عہد میں ایک نسل جوان ہوئی اور اس کو اس کتاب کا علم بھی نہیں اس کتاب میں گوادر اور دوسری ساحلی پٹی جو لگ بھگ 700 کلو میٹر طویل ہے اسکی پسماندگی اور حکومتی کی عدم توجہی کی بات کی گئی ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پورے گوادر کے ساحلی پٹی پر کوئی بھی ایمبولینس موجود نہیں جو ایمرجنسی کی حالت میں وہاں کے مریضوں کو ہسپتال پہنچا سکے مائیگیریوں کے لئے کوئی ڈھنگ کا کالج بھی نہیں نہیں اس خطے کے لوگوں کو سرمایہ داری نظام نے بہت پسماندہ رکھا ہے اور بری طرح انکا استحصال کر رہا ہے ایک جگہ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ حکومت نے بڑی بڑی کشتیوں کو یہاں...