Skip to main content

Posts

Showing posts from 2018

بی این پی، بیانات سے حل تک

دسمبر 6, 2018 بلاگ کرد بلوچ "ہمارا مقصد اور سیاست کا محور لاپتہ بلوچ نوجوانوں کی بازیابی اور وسائل کا تحفظ ہے، اس کے لیے کوئی بھی کمپرومائز نہیں کریں گے.” یہ بیان ثنا بلوچ کا ہے جنہوں نے یہ حال ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر شئیر کیا تھا. ثنا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ وہ اور لوگ ہوں گے جو اقتدار کی خاطر بلوچستان کا سودا کرتے ہیں، بلوچوں کی اجتماعی قبروں پر سوداگری کرتے ہیں، ان کے دور میں بلوچستان قبرستان بن جاتا ہے. 2017 سے لے کر 2018 تک بلوچستان میں ہزاروں نوجوان لاپتہ ہوئے اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں، سیکڑوں لاشیں ملیں، آج وہی لوگ بیٹھ کر ہم پر الزامات لگاتے ہیں. ثنا بلوچ کی یہ ساری باتیں حقیقت پر مبنی ہیں اور عوام نے ان رہنماؤں سے نجات پانے کے لیے ہی بی این پی کو ووٹ دیا اور بی این پی کے بہت سے امیدواروں کو اپنے اپنے حلقوں سے کامیاب کروایا. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی این پی کے آتے ہی بلوچستان کے مسائل حل ہوئے؟ جتنے بھی لاپتہ افراد تھے کیا وہ بازیاب ہو سکے؟ بلوچستان کو حقِ خود ارادیت ملا؟ بلوچوں کو اغوا کرنے کا جو سلسلہ سابق حکومت میں تھا، وہ ختم ہوا یا ابھی...

بی این پی بیانات سے حل تک

دسمبر 6, 2018 بلاگ کرد بلوچ "ہمارا مقصد اور سیاست کا محور لاپتہ بلوچ نوجوانوں کی بازیابی اور وسائل کا تحفظ ہے، اس کے لیے کوئی بھی کمپرومائز نہیں کریں گے.” یہ بیان ثنا بلوچ کا ہے جنہوں نے یہ حال ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر شئیر کیا تھا. ثنا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ وہ اور لوگ ہوں گے جو اقتدار کی خاطر بلوچستان کا سودا کرتے ہیں، بلوچوں کی اجتماعی قبروں پر سوداگری کرتے ہیں، ان کے دور میں بلوچستان قبرستان بن جاتا ہے. 2017 سے لے کر 2018 تک بلوچستان میں ہزاروں نوجوان لاپتہ ہوئے اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں، سیکڑوں لاشیں ملیں، آج وہی لوگ بیٹھ کر ہم پر الزامات لگاتے ہیں. ثنا بلوچ کی یہ ساری باتیں حقیقت پر مبنی ہیں اور عوام نے ان رہنماؤں سے نجات پانے کے لیے ہی بی این پی کو ووٹ دیا اور بی این پی کے بہت سے امیدواروں کو اپنے اپنے حلقوں سے کامیاب کروایا. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی این پی کے آتے ہی بلوچستان کے مسائل حل ہوئے؟ جتنے بھی لاپتہ افراد تھے کیا وہ بازیاب ہو سکے؟ بلوچستان کو حقِ خود ارادیت ملا؟ بلوچوں کو اغوا کرنے کا جو سلسلہ سابق حکومت میں تھا، وہ ختم ہوا یا ابھی تک...

پاکستان کے مشکل و پیچیدہ سیاسی صورتحال

کرد بلوچ پاکستان اس وقت بہت ہی مشکل دور سے گزر رہا ہے. ایک طرف مذہبی رہنماؤں کی گرفتاری میں تیزی آ رہی ہے تو دوسری طرف حکومت کے کارندے آسیہ بی بی کو باہر بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں. آسیہ بی بی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں ہوا تھا، جس میں آسیہ بی بی کو باعزت بری کر دیا گیا تھا. آسیہ بی بی پر الزام ہے کہ اس نے نبی پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں اور نبی کی شان میں گستاخی بھی کی ہے. ان پر یہ الزام ان کے ساتھ کام کرنی والی ساتھیوں نے لگایا تھا. پہلے پہل تو ہائیکورٹ نے اس کو سزائے موت سنائی تھی لیکن دوبارہ کیس ری اوپن ہونے کی صورت میں فیصلہ آسیہ بی بی کے حق میں چلا گیا. سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی مذہبی رہنماؤں کی طرف سے غم وغصے کا اظہار کیا گیا اور دوبارہ احتجاج کرنے کے لیے 25 نومبر کو اپنے کارکنوں کو تیار رہنے کا حکم ملا. اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے مذہبی رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا حکم نامہ جاری کیا اور آہستہ آہستہ پورے ملک میں مذہبی رہنماؤں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا گیا. اپنے رہنماؤں کی گرفتاری کی خبر سنتے ہی کارکنوں...

میرا استاد، استاد میر جان

ولید بلوچ نومبر 27, 2018 بلاگ کرد بلوچ استاد کا معاشرہ میں بہت بڑا کردار ہوتا ہے. استاد کسی بھی معاشرے کے لوگوں کو ان کے رہن سہن، اٹھنا بیٹھنا اور لوگوں کو برتاؤ کے طور طریقہ سکھاتا ہے. ماں باپ کے بعد جو بھی انسان کا خیرخواہ ہے، وہ استاد ہی ہوتا ہے. ماں باپ اولاد کو پیدا کرتا ہے اور استاد اس کو معاشرے میں لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹنھے کے آداب سکھاتا ہے. جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک پر نظر دوڑائیں آپ کو بخوبی اندازہ ہو گا کہ وہاں کے معاشرے میں استاد کا کیا کردار رہا ہے یعنی استاد ہی وہ سرمایہ ہے جو کسی بھی معاشرے میں سماجی تبدیلی میں بہت بڑا کردار ادا کر سکتا ہے. دوسری عالمی جنگ میں جب ہٹلر کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو کہا جاتا ہے کہ اس نے سب سے پہلے استادوں کو وہاں سے نکالنے کا کہا. اس کا کہنا تھا کہ جب استاد موجود ہوگا تو ہم ایک اچھی قوم کی دوبارہ تعمیر کا خواب دیکھ سکیں گے. ایسا ہی شفیق، مہربان اور قابلِ قدر میرا ایک استاد ہے، جس نے ہمیں اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ ہم اپنے اچھے اور برے کی پہچان کر سکیں. مجھے یاد ہے وہ دن جب استاد میر جان ہمیں بہت ہی پیار اور شفقت سے پڑھاتا تھا اور ...

ایک پیغام بلوچستان کے نام

کرد بلوچ بلوچستان سے ہونے والی زیادتی اور ناانصافی کی وجہ آخر کیا ہو سکتی ہے؟!۔ مشرف کے دور سے لے کر اب تک لاپتہ افراد میں کیوں اضافہ ہوا؟ کیوں ہمارے بلوچ بھائی ٹارگٹ ہوتے رہے؟ پہلے جو زیادتی بلوچوں کے ساتھ ہوئی، اب وہی چیز ہمارے پشتون بھائیوں کے ساتھ ہو رہی ہے۔ جیسا کہ آج کل وزیرستان سے آواز بلند ہو رہی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاں وہاں پر بھی آواز بلند کرنے کی صورت میں زندان میں ڈالا جاتا ہے؟ کیا وہاں پر بھی ہر چیک پوسٹ پر بوڑھوں اور جوانوں کو تنگ کیا جاتا ہے؟۔ ماضی کے دور میں بھی یہی ہوتا رہا۔ اس دور میں خان شہید باچا خان، میر عبدالعزیز کرد، محمد حسین عنقا بلوچ اور دیگر نے آواز بلند کی۔ بلوچستان میں سب سے پہلے میر عبدالعزیز کرد نے 1921 میں آواز بلند کی اور انگریزوں کے خلاف ڈٹے رہے۔ ان لوگوں نے بلوچستان کے لوگوں کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی اور اپنے عوام کے ساتھ کھڑے رہے۔ آج کل جمہوریت ہے۔ بی این پی، بی اے پی، پشتون خواہ عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی جمہوریت کا حصہ ہیں۔ ان سب کی موجودگی کے باوجود بلوچستان میں یہ سودے بازی اور ناانصافی کی آخر کیا وجہ ہ...

بلوچستان کا پسماندہ ترین علاقہ

بلوچستان کا پسماندہ ترین علاقہ ولید بلوچ نومبر 10, 2018 بلاگ بلوچستان کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جو پسماندہ علاقوں میں شمار ہوتے ہیں. ایسا ہی ایک علاقہ ہے جو کہ دشت مرو گڑھ کے نام سے جانا جاتا ہے یہ کولپور سے 25 کلو میٹر کے فاصلہ پر جنوب میں واقع ہے. یہاں براہوی بلوچ کے بہت سے قبائل صدیوں سے آباد ہیں جن میں کرد، ساتکزئی، بنگلزئی، پرکانی، سرمستانی، لانگو، پہلوانزئی اور مینگل آباد ہیں. ان میں اکثریت کرد قبیلے کی ہے. مرو کی کل آبادی تقریباً 5000 افراد کے لگ بھگ ہے جو کہ سات وارڈ پر مشتمل ہے. جن کے نام یہ یہ ہیں؛ کنڈماس پھل مرو، گیت، گڑھ مرو، تلخکاوی، زھری گٹ، مل، اور کابو. صحت تعلیم اور کھیل کے حوالے سے یہاں کچھ بھی اقدامات نہیں ہو رہے ہیں. یہاں نہ کوئی اسپتال ہے اور نہ ہی مڈل یا ہائی اسکول موجود ہے. جب کوئی بندہ بیمار ہوتا ہے تو علاج کے لیے اسے کوئٹہ لانا پڑتا ہے جو کہ مرو سے 70 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے. اگر تعلیم کے حوالے سے دیکھا جائے تو پرائمری کے بعد زیادہ تر بچے آگے نہیں پڑھ پاتے. اگر کچھ بچے اگے پڑھ بھی لیں تو انہیں 25 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے کولپور جانا پڑتا ہے. ایسے می...

لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا احتجاجی اور حکومت کی ذمہ داری

تحریر کرد بلوچ نومبر 11, 2011ب ایک بہن اپنے گھر کے چراغ کو تلاش کرنے پریس کلب کوئٹہ پہنچی ہے. اس کے بھائی کو لاپتہ ہوئے کتنا عرصہ بیت چکا ہے لیکن ابھی تک اس کے بھائی کا کوئی پرسانِ حال نہیں. ابھی تک ان کو یہ بھی نہیں پتہ ان کا بھائی زندہ بھی ہے یا نہیں؟. سماج کی خاموشی سے تنگ آ کر آج خود پریس کلب پہنچا ہے اور اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہا ہ نجانے کتنی مائیں، کتنی بہنیں اور کتنی بیویاں اپنے گھر کے چراغ کو ڈھونڈنے اتنا بڑا سفر طے کر کے پریس کلب کے سامنے جمع ہیں اور احتجاجی کیمپ میں بیٹھے ہوئے ہیں. ماما قدیر کے ہمراہ یہ سارے لوگ اسلام آباد تک پیدل جا چکے ہیں لیکن وہاں بھی ان لوگوں کی کوہی شنواہی نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی خاطر خواہ جواب ملا. ماما قدیر اس وقت لانگ مارچ کی سربراہی کر رہے تھے اور ان سب کا مسکن بنا ہوا تھا. مشرف دور میں نواب بگٹی کی شہادت کے بعد سے بلوچوں کو اغوا کر کے کے غائب کرنے کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، وہ بلوچ قوم آج تک بھگت رہی ہے اور اس وقت سے لے کر آج تک یہ سارے لوگ اپنے پیاروں کی واپسی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں. مستونگ، کابو، اسپلنجی، مشکے، مچھ بولان،...

بابو عبدالرحمن کرد پرائمری سکول کی خستہ حالی

آج بہت دنوں بعد جب میں یونیورسٹی سے گھر چلا گیا تو صبح کے وقت میں نے اپنے گاؤں کے سکول جانے کا ارادہ کیا. سکول ہمارے گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع ہے جب میں وہاں پونچھا تو بچوں کی تعداد دیکھ کر میں حیران رہ گیا سکول میں صرف چار بچے آئے تھے اور استاد بھی موجود نہیں تھا. بچے مجھے دیکھ کر پریشان ہوئے اور اپنی کتابیں کھول کر پڑھنے لگے میں نے بچوں کو سلام کیا اور پھر وہاں ان کے ساتھ بیٹھ گیا سب سے پہلے میں نے ایک بچے سے ان کے استاد کے بارے میں پوچھا بیٹا، آج استاد نہیں آیا ہے اس نے معصومیت بھرے لہجے میں جواب دیا وہ تو کوئٹہ چلے گئے ہیں آج وہ نہیں آئے گا جانے کے وقت اس نے بتایا تھا کہ کل وہ نہیں آسگے گی. سکول کی خستہ حالی اور استاد کی غیر موجودگی دیکھ کر مجھے میرا بچپن یاد آگیا میرا بچپن بھی اسی اسکول میں گزرا تھا اور میں نے پرائمری تک تعلیم اس سکول سے حاصل کی اس وقت بچوں کی تعداد لگ بھگ دو سو چالیس تک تھی اور ہمارے دو استاد تھے ایک کا نام تھا استاد داؤد شاہ اور دوسرا استاد حیدر تھا. استاد داؤد شاہ تھوڑے سخت مزاج کے تھے اور استاد حیدر تھوڑے نرم مزاج کے لیکن انکے پڑھانے کا انداذ بہ...