آج کے دور میں چھوٹی سی بھی چھوٹی حرکت کیمرہ کے آنکھ میں سما جاتی ہے ساری دنیا کو پتا چل جاتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہورہا مگر پھر بھی ہمارے اوپر جو حکمران مسلط ہیں وہ یہ سب دیکھ کر خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں ہر ٹولہ یہاں کے معاملات کو لے کر اپنی سیاست چمکانے کے تگ و دود میں لگا ہے ہوا ہے ہر کسی کی یہی خواہش ہے کہ اگلا الیکشن آجائے اور ساری کی ساری قیادت اس کی پارٹی کے ہوں اور وہ اسمبلی فلور پر اپنی اجارہ داری قائم کرسکیں ۔
یہاں بلوچستان میں جتنے بھی سیاست کے دعویدار ہیں وہ سب کٹھ پتلی کے سوا کچھ بھی نہیں ان کی ڈوریں کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہیں ۔
مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی سیاسی قیادت بلوچستان کی حالت کو لے کر مخلص ہے ہر کوئی ایک دوسرے کی آنگن میں تانک جانک کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر رہا
عوام کا جو بھی ہونا ہے اللہ ہی حافظ و نگہبان
کوئی کہتا ہے یہاں جمہوریت نہیں ہے کوئی کہتا ہے ہماری بات سنی نہیں جارہی کوئی کہتا ہے یہاں کے وسائل لوٹے جارہے ہیں اور کوئی کہتا ہے فلانی تو اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہے
ارے بھئی اب اگر سب کچھ آپ لوگوں کو پتہ ہے تو آپ کیوں جمہوریت کے راگ الاپتے رہتے ہو کیوں عوام کو طفل تسلی دےکران کو رام کر رہےہو
صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ ہم اپنی جیبیں بھرنے کے لئے اقدار کا حصہ بن نا چائہیں گے کیوں بار بار ایک ہی واویلا کر کے لوگوں کے زخموں پہ نمک۔ چڑک دیتے ہو کیوں انہیں کرید کرید کر تازہ کر دیتے ہو
اگر آپ لوگوں کے بس میں نہیں یہاں کے معاملات سمبھالنا تو چھوڑ دو یہ سیاست یہ جمہیوریت کاراگ الاپنا
بی این پی کی ساسی ٹولی ہر وقت کمیشن بناتی رہتی کہ مسنگ پرسنز کا معمہ حل کیا جائے ادھر کمیشن بنائے جاتے ہیں ادھر سے پھر لوگوں کو اغواء کرنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے آخر کیا فائدہ ایسے کمیشن بٹانے کا جس میں صرف باتوں کی حد تک کاروائی ہو عملاً کچھ بھی نہیں
حال ہی میں بلوچستان یونیورسٹی میں سردار صاحب کچھ اعلی افسروں کے ساتھ پوری جامعہ کا دورہ کیا اور آنکھوں دیکھا حال سنا کر لوگوں کو بتاتے رہے کہ ہم اپنی طرف ایڑی چوٹی کی زور لگا دینگے مگر پھر بھی ہوا کچھ نہیں ایک ہفتہ کے بعد کوہٹہ ہی کے علاقہ سے کچھ طالب علموں کو اٹھا کر لاپتہ کیا گیا ابھی تک ان لوگوں کا کچھ بھی پتہ نہیں چل پا رہا
اگر اسی طرح یہ نظام چلتا رہے گا غائب کرنے والوں کو کوئی پوچھے گا بھی نہیں اسکی جیسی مرضی وہ کرتا رہے پھر کون اپنے خیر منائے گا سیاسی قیادت کا تو حال ہم سب کے سامنے ہیں ہر روز میڈیا کے سامنے آتے ہیں کہ بھئی ہمارے ساتھ یہ ہو رہا ہمارے ساتھ وہ ہو رہا ہے پھر بھی انکی بات کو کوئی اہمیت ہی نہیں دے رہا تو پھر کیوں وہ لوگ اس جمہوریت کا ساتھ دے رہے کیوں وہ اپنا راستہ الگ نہیں کرتے اگر آپ لوگ واقعی بلوچستان کے خیر خواہ ہیں تو بلوچستان کے بدخواہوں سے اپنا راستہ الگ کییجئے تبھی بلوچستان اور بلوچ قوم کے لئے کچھ اچھا ہوگا

Comments
Post a Comment