Skip to main content

ہمارے رہنما یا ہمارے سوداگر

سن انتالیس کے سیاست اور;آج کی سیاست کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو دونوں یکساں طور پر سامنے آتے ہیں خیر اس وقت تو اتنی ترقی نہیں ہوتی تھی اور دنیا اتنی سوشلائز بھی نہیں تھی انگریز جو چائےجس طرح چائے اپنی من مانی کیا کرتے تھے اور ان کے عوام کے اوپر ظلم و ستم اس طرح لوگوں پہ آشکار نہں ہوا کرتے تھے جس طرح آج کے زمانہ میں ایک پتہ ہل جانے سے بھی پورا سماج با خبر ہوجاتا ہے مگر پھر بھی اس وقت لوگ اپنی حق کے لئے اپنی بقا و انا کے لئے سڑکوں پہ نکلتے تھے احتجاج کرتے تھے سیاسی قیادت لوگوں کے ساتھ مل کر انگریزوں سے اپنی آزادی کی مانگ کیا کرتے تھے پر اب ایسا نہیں ہے سیاسی ٹولہ حکومت کی ستم ظریفی اور ناجائز کاموں پر انکی واہ واہ اور جے جے کار کرتا ہے ۔

آج کے دور میں چھوٹی سی بھی چھوٹی حرکت کیمرہ کے آنکھ میں سما جاتی ہے ساری دنیا کو پتا چل جاتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہورہا مگر پھر بھی ہمارے اوپر جو حکمران مسلط ہیں وہ یہ سب دیکھ کر خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں ہر ٹولہ یہاں کے معاملات کو لے کر اپنی سیاست چمکانے کے تگ و دود میں لگا ہے ہوا ہے ہر کسی کی یہی خواہش ہے کہ اگلا الیکشن آجائے اور ساری کی ساری قیادت اس کی پارٹی کے ہوں اور وہ اسمبلی فلور پر اپنی اجارہ داری قائم کرسکیں ۔

یہاں بلوچستان میں جتنے بھی سیاست کے دعویدار ہیں وہ سب کٹھ پتلی کے سوا کچھ بھی نہیں ان کی ڈوریں کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہیں ۔

مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی سیاسی قیادت بلوچستان کی حالت کو لے کر مخلص ہے ہر کوئی ایک دوسرے کی آنگن میں تانک جانک کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر رہا 

عوام کا جو بھی ہونا ہے اللہ ہی حافظ و نگہبان 

کوئی کہتا ہے یہاں جمہوریت نہیں ہے کوئی کہتا ہے ہماری بات سنی نہیں جارہی کوئی کہتا ہے یہاں کے وسائل لوٹے جارہے ہیں اور کوئی کہتا ہے فلانی تو اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہے 

ارے بھئی اب اگر سب کچھ آپ لوگوں کو پتہ ہے تو آپ کیوں جمہوریت کے راگ الاپتے رہتے ہو کیوں عوام کو طفل تسلی دےکران کو رام کر رہےہو

صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ ہم اپنی جیبیں بھرنے کے لئے اقدار کا حصہ بن نا چائہیں گے کیوں بار بار ایک ہی واویلا کر کے لوگوں کے زخموں پہ نمک۔ چڑک دیتے ہو کیوں انہیں کرید کرید کر تازہ کر دیتے ہو 

اگر آپ لوگوں کے بس میں نہیں یہاں کے معاملات سمبھالنا تو چھوڑ دو یہ سیاست یہ جمہیوریت کاراگ الاپنا 

بی این پی کی ساسی ٹولی ہر وقت کمیشن بناتی رہتی کہ مسنگ پرسنز کا معمہ حل کیا جائے ادھر کمیشن بنائے جاتے ہیں ادھر سے پھر لوگوں کو اغواء کرنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے آخر کیا فائدہ ایسے کمیشن بٹانے کا جس میں صرف باتوں کی حد تک کاروائی ہو عملاً کچھ بھی نہیں 

حال ہی میں بلوچستان یونیورسٹی میں سردار صاحب کچھ اعلی افسروں کے ساتھ پوری جامعہ کا دورہ کیا اور آنکھوں دیکھا حال سنا کر لوگوں کو بتاتے رہے کہ ہم اپنی طرف ایڑی چوٹی کی زور لگا دینگے مگر پھر بھی ہوا کچھ نہیں ایک ہفتہ کے بعد کوہٹہ ہی کے علاقہ سے کچھ طالب علموں کو اٹھا کر لاپتہ کیا گیا ابھی تک ان لوگوں کا کچھ بھی پتہ نہیں چل پا رہا 

اگر اسی طرح یہ نظام چلتا رہے گا غائب کرنے والوں کو کوئی پوچھے گا بھی نہیں اسکی جیسی مرضی وہ کرتا رہے پھر کون اپنے خیر منائے گا سیاسی قیادت کا تو حال ہم سب کے سامنے ہیں ہر روز میڈیا کے سامنے آتے ہیں کہ بھئی ہمارے ساتھ یہ ہو رہا ہمارے ساتھ وہ ہو رہا ہے پھر بھی انکی بات کو کوئی اہمیت ہی نہیں دے رہا تو پھر کیوں وہ لوگ اس جمہوریت کا ساتھ دے رہے کیوں وہ اپنا راستہ الگ نہیں کرتے اگر آپ لوگ واقعی بلوچستان کے خیر خواہ ہیں تو بلوچستان کے بدخواہوں سے اپنا راستہ الگ کییجئے تبھی بلوچستان اور بلوچ قوم کے لئے کچھ اچھا ہوگا

Comments

کرد بلوچ

شہید سائیں عبدالباقی جان مروی

اینو ہرا استی نا زی آ نن لکھنگ کن قلم ارفینون اونا بارو اٹ لکھنگ یا گڑا اس نوشت کنگ باز مشکل او کاریم اسے او ہستی نا شان ،مرتبہ ،دبدہ و رعب انداخس زیات اس کہ اوفتا پانگ نن کونا نابود آ تا وس آن پیشن اے ولے ولدا ام اوفتا باروٹ نن تینا مخلوق اے سہی کنگ اوفتا موجودگی ٹی علاقہ نا انت صورتحال اس اوفک امر زند تیر کریرہ راج اٹ اوفتا عزت اخس اس مخلوق تا ویل اے او ارا وڑ مر کریرہ دا کل گڑا تے نوشت کنگ نن تینا زی آ فرض خیال کینہ ارا گڑا اے نن اوفتا نگرانی محسوس کرین اوفک ننا تربیت اے ارا وڑ کریر دین انا زی آ افتا اخس کنٹرول اس دا کل اے نن خوانہ باید ننا بروکا مخلوق اے سما تمر تو خواجہ غاک نن گپ کنگ اون پیر سائیں عبدالباقی جان مروی نا باروٹ سائیں جان امو استی اس کہ راج انا کل مخلوق نا دڑد و ویل اے تینا دڑد و ویل چائسکہ او تینا مخلوق کہ خنی کنگ کن اسہ مدرسہ اس  ام چلیفیکہ اراٹی ناظرہ، تعلیم القران،فارسی،صرف و نحو نا قانود او عربی ایل تسرہ او  اینو پدے اسکا دا انداڑے دا کل ایل  تنگ گن او سائیں باقو جان علاقہ ٹی  مخلوق نا جنگ و جیڑ آ تے ام خلاس کریکہ جاگہ اس پڈڈہ اس مروسس چنک...

بابو عبدالرحمن کرد پرائمری سکول کی خستہ حالی

آج بہت دنوں بعد جب میں یونیورسٹی سے گھر چلا گیا تو صبح کے وقت میں نے اپنے گاؤں کے سکول جانے کا ارادہ کیا. سکول ہمارے گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع ہے جب میں وہاں پونچھا تو بچوں کی تعداد دیکھ کر میں حیران رہ گیا سکول میں صرف چار بچے آئے تھے اور استاد بھی موجود نہیں تھا. بچے مجھے دیکھ کر پریشان ہوئے اور اپنی کتابیں کھول کر پڑھنے لگے میں نے بچوں کو سلام کیا اور پھر وہاں ان کے ساتھ بیٹھ گیا سب سے پہلے میں نے ایک بچے سے ان کے استاد کے بارے میں پوچھا بیٹا، آج استاد نہیں آیا ہے اس نے معصومیت بھرے لہجے میں جواب دیا وہ تو کوئٹہ چلے گئے ہیں آج وہ نہیں آئے گا جانے کے وقت اس نے بتایا تھا کہ کل وہ نہیں آسگے گی. سکول کی خستہ حالی اور استاد کی غیر موجودگی دیکھ کر مجھے میرا بچپن یاد آگیا میرا بچپن بھی اسی اسکول میں گزرا تھا اور میں نے پرائمری تک تعلیم اس سکول سے حاصل کی اس وقت بچوں کی تعداد لگ بھگ دو سو چالیس تک تھی اور ہمارے دو استاد تھے ایک کا نام تھا استاد داؤد شاہ اور دوسرا استاد حیدر تھا. استاد داؤد شاہ تھوڑے سخت مزاج کے تھے اور استاد حیدر تھوڑے نرم مزاج کے لیکن انکے پڑھانے کا انداذ بہ...

لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا احتجاجی اور حکومت کی ذمہ داری

تحریر کرد بلوچ نومبر 11, 2011ب ایک بہن اپنے گھر کے چراغ کو تلاش کرنے پریس کلب کوئٹہ پہنچی ہے. اس کے بھائی کو لاپتہ ہوئے کتنا عرصہ بیت چکا ہے لیکن ابھی تک اس کے بھائی کا کوئی پرسانِ حال نہیں. ابھی تک ان کو یہ بھی نہیں پتہ ان کا بھائی زندہ بھی ہے یا نہیں؟. سماج کی خاموشی سے تنگ آ کر آج خود پریس کلب پہنچا ہے اور اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہا ہ نجانے کتنی مائیں، کتنی بہنیں اور کتنی بیویاں اپنے گھر کے چراغ کو ڈھونڈنے اتنا بڑا سفر طے کر کے پریس کلب کے سامنے جمع ہیں اور احتجاجی کیمپ میں بیٹھے ہوئے ہیں. ماما قدیر کے ہمراہ یہ سارے لوگ اسلام آباد تک پیدل جا چکے ہیں لیکن وہاں بھی ان لوگوں کی کوہی شنواہی نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی خاطر خواہ جواب ملا. ماما قدیر اس وقت لانگ مارچ کی سربراہی کر رہے تھے اور ان سب کا مسکن بنا ہوا تھا. مشرف دور میں نواب بگٹی کی شہادت کے بعد سے بلوچوں کو اغوا کر کے کے غائب کرنے کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، وہ بلوچ قوم آج تک بھگت رہی ہے اور اس وقت سے لے کر آج تک یہ سارے لوگ اپنے پیاروں کی واپسی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں. مستونگ، کابو، اسپلنجی، مشکے، مچھ بولان،...

بلوچستان کا پسماندہ ترین علاقہ

بلوچستان کا پسماندہ ترین علاقہ ولید بلوچ نومبر 10, 2018 بلاگ بلوچستان کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جو پسماندہ علاقوں میں شمار ہوتے ہیں. ایسا ہی ایک علاقہ ہے جو کہ دشت مرو گڑھ کے نام سے جانا جاتا ہے یہ کولپور سے 25 کلو میٹر کے فاصلہ پر جنوب میں واقع ہے. یہاں براہوی بلوچ کے بہت سے قبائل صدیوں سے آباد ہیں جن میں کرد، ساتکزئی، بنگلزئی، پرکانی، سرمستانی، لانگو، پہلوانزئی اور مینگل آباد ہیں. ان میں اکثریت کرد قبیلے کی ہے. مرو کی کل آبادی تقریباً 5000 افراد کے لگ بھگ ہے جو کہ سات وارڈ پر مشتمل ہے. جن کے نام یہ یہ ہیں؛ کنڈماس پھل مرو، گیت، گڑھ مرو، تلخکاوی، زھری گٹ، مل، اور کابو. صحت تعلیم اور کھیل کے حوالے سے یہاں کچھ بھی اقدامات نہیں ہو رہے ہیں. یہاں نہ کوئی اسپتال ہے اور نہ ہی مڈل یا ہائی اسکول موجود ہے. جب کوئی بندہ بیمار ہوتا ہے تو علاج کے لیے اسے کوئٹہ لانا پڑتا ہے جو کہ مرو سے 70 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے. اگر تعلیم کے حوالے سے دیکھا جائے تو پرائمری کے بعد زیادہ تر بچے آگے نہیں پڑھ پاتے. اگر کچھ بچے اگے پڑھ بھی لیں تو انہیں 25 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے کولپور جانا پڑتا ہے. ایسے می...

پاکستان کے مشکل و پیچیدہ سیاسی صورتحال

کرد بلوچ پاکستان اس وقت بہت ہی مشکل دور سے گزر رہا ہے. ایک طرف مذہبی رہنماؤں کی گرفتاری میں تیزی آ رہی ہے تو دوسری طرف حکومت کے کارندے آسیہ بی بی کو باہر بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں. آسیہ بی بی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں ہوا تھا، جس میں آسیہ بی بی کو باعزت بری کر دیا گیا تھا. آسیہ بی بی پر الزام ہے کہ اس نے نبی پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں اور نبی کی شان میں گستاخی بھی کی ہے. ان پر یہ الزام ان کے ساتھ کام کرنی والی ساتھیوں نے لگایا تھا. پہلے پہل تو ہائیکورٹ نے اس کو سزائے موت سنائی تھی لیکن دوبارہ کیس ری اوپن ہونے کی صورت میں فیصلہ آسیہ بی بی کے حق میں چلا گیا. سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی مذہبی رہنماؤں کی طرف سے غم وغصے کا اظہار کیا گیا اور دوبارہ احتجاج کرنے کے لیے 25 نومبر کو اپنے کارکنوں کو تیار رہنے کا حکم ملا. اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے مذہبی رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا حکم نامہ جاری کیا اور آہستہ آہستہ پورے ملک میں مذہبی رہنماؤں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا گیا. اپنے رہنماؤں کی گرفتاری کی خبر سنتے ہی کارکنوں...

ایک پیغام بلوچستان کے نام

کرد بلوچ بلوچستان سے ہونے والی زیادتی اور ناانصافی کی وجہ آخر کیا ہو سکتی ہے؟!۔ مشرف کے دور سے لے کر اب تک لاپتہ افراد میں کیوں اضافہ ہوا؟ کیوں ہمارے بلوچ بھائی ٹارگٹ ہوتے رہے؟ پہلے جو زیادتی بلوچوں کے ساتھ ہوئی، اب وہی چیز ہمارے پشتون بھائیوں کے ساتھ ہو رہی ہے۔ جیسا کہ آج کل وزیرستان سے آواز بلند ہو رہی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاں وہاں پر بھی آواز بلند کرنے کی صورت میں زندان میں ڈالا جاتا ہے؟ کیا وہاں پر بھی ہر چیک پوسٹ پر بوڑھوں اور جوانوں کو تنگ کیا جاتا ہے؟۔ ماضی کے دور میں بھی یہی ہوتا رہا۔ اس دور میں خان شہید باچا خان، میر عبدالعزیز کرد، محمد حسین عنقا بلوچ اور دیگر نے آواز بلند کی۔ بلوچستان میں سب سے پہلے میر عبدالعزیز کرد نے 1921 میں آواز بلند کی اور انگریزوں کے خلاف ڈٹے رہے۔ ان لوگوں نے بلوچستان کے لوگوں کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی اور اپنے عوام کے ساتھ کھڑے رہے۔ آج کل جمہوریت ہے۔ بی این پی، بی اے پی، پشتون خواہ عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی جمہوریت کا حصہ ہیں۔ ان سب کی موجودگی کے باوجود بلوچستان میں یہ سودے بازی اور ناانصافی کی آخر کیا وجہ ہ...